پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایف سی ہیڈکوارٹرز پر دوپہر کے قریب عسکریت پسندوں کے حملے میں صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کے مطابق دو سکیورٹی اہلکاروں سمیت 10 افراد کی جان گئی۔
بم ڈسپوزل سکواڈ کی رپورٹ کے مطابق خودکش بم دھماکے میں 25 سے 30 کلو بارودی مواد کا استعمال کیا گیا جبکہ مارے گئے حملہ آوروں سے 13 دستی بم، تین گرنیڈ لانچر اور چار کلاشنکوف برآمد ہوئے ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک بیان میں کہا کہ سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے خودکش حملہ آور سمیت تمام چھ عسکریت پسندوں کو مار دیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے منگل کو ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ خودکش حملے کے بعد دیگر عسکریت پسند عمارت میں داخل ہونا چاہتے تھے لیکن انہیں سکیورٹی فورسز نے اس کوشش میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔
عینی شاہدین کے مطابق زوردار دھماکے کے بعد علاقے میں فائرنگ کی آواز بھی سنی گئی جبکہ پولیس اور ایف سی نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
وزیر صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ اور سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمٰن نے سول اسپتال کوئٹہ بی ایم سی اسپتال کوئٹہ اور ٹراما سینٹر میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق تمام کنسلٹنٹس ڈاکٹرز فارماسسٹس اسٹاف نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو ہسپتالوں میں طلب کر لیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق زخمیوں کو مکمل طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہے ہیں۔
واضع رہے کہ سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ واقعہ حساس علاقے میں پیش آیا جس کے باعث تمام متعلقہ ادارے فوری حرکت میں آ گئے ہیں اور علاقے میں تلاشی کا عمل جاری ہے۔






