کوٹ مومن تھانے میں درج ایف آئی آر کے مطابق درخواست گزار انعام اللہ، جو پیشے کے اعتبار سے دکان دار ہیں، نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ 17 جولائی کی صبح تقریباً نو بجے وہ اپنی دکان پر موجود تھے جبکہ ان کی والدہ گھر پر تھیں۔

درخواست کے مطابق اسی دوران ان کی اہلیہ دونوں بیٹیوں، پانچ سالہ انائزہ فاطمہ اور تین سالہ مائزہ، کو ساتھ لے کر گھر سے چلی گئیں۔

ایف آئی آر میں درخواست گزار نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی اہلیہ دو افراد، جن کی شناخت عامر اور عمران کے نام سے کی گئی ہے، کے ساتھ گئی ہیں۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ان افراد سے ان کی اہلیہ کا پہلے سے رابطہ تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق درخواست گزار نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ خاتون گھر سے جاتے ہوئے تقریباً 25 لاکھ روپے مالیت کے طلائی زیورات، نقد رقم اور دیگر قیمتی سامان بھی ساتھ لے گئیں۔

درخواست گزار کے مطابق جب انہیں واقعے کا علم ہوا تو انہوں نے اپنی اہلیہ اور بچیوں کی تلاش کی، تاہم ان کا سراغ نہیں مل سکا، جس کے بعد انہوں نے پولیس سے رجوع کیا۔

پولیس نے درخواست کی بنیاد پر پاکستان پینل کوڈ کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون، دونوں بچیوں اور نامزد افراد کی تلاش کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

تاہم یہ واضح نہیں کہ خاتون اپنی مرضی سے گھر سے گئی ہیں یا انہیں زبردستی لے جایا گیا ہے۔ اس حوالے سے حتمی حقائق پولیس کی تفتیش اور ممکنہ عدالتی کارروائی کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔