نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ حالیہ جنگ میں ابتدائی دنوں میں ہی ایران نے مضبوط مزاحمت کا مظاہرہ کیا اور ان تمام اندازوں کو غلط ثابت کیا جن کے تحت توقع کی جا رہی تھی کہ قیادت کو نشانہ بنانے کے بعد ایران میں حکومت کمزور ہو جائے گی یا ریجیم چینج ممکن ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلیجنس کے باوجود امریکا اور اس کے اتحادیوں کی حکمت عملی ناکام ثابت ہوئی، جب کہ ایران نے بھاری جانی و مالی نقصان کے باوجود ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ پہلی بار امریکی عوام کی جانب سے اپنے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے، جب کہ امریکا کے اندر سیاسی اور معاشی مسائل بھی بڑھ رہے ہیں۔ عالمی سطح پر توانائی بحران بھی شدت اختیار کر چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک نے امریکا کو کھربوں ڈالر فراہم کیے، تاہم اب انہیں احساس ہو رہا ہے کہ ان کی سیکیورٹی کے بجائے امریکی پالیسیوں کا مرکز اسرائیل ہے۔ اسرائیل خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے کام کر رہا ہے۔
پاکستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک اہم ایٹمی طاقت اور جغرافیائی لحاظ سے انتہائی اہم ملک ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایران کے ساتھ کھل کر حمایت کا اظہار کیا، تاہم امریکا اور اسرائیل کی مذمت بھی واضح طور پر کی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی انٹیلیجنس رپورٹس میں پاکستان کو بھی بڑے ممالک کے ساتھ خطرات کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کو بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
افغانستان سے متعلق گفتگو میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے، جس پر تشویش ہے۔
اسرائیل کا ہدف پاکستان کا نیوکلیئر پروگرام ہے، حافظ نعیم الرحمان#SamaaTV #DoTokwithKiranNaz #KiranNaz@kirannaz_KN pic.twitter.com/zWhJbrANZI
— SAMAA TV (@SAMAATV) March 27, 2026
انہوں نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح طور پر دہشت گرد عناصر سے لاتعلقی کا اعلان کرے اور پاکستان کے ساتھ تعاون کو فروغ دے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی کی پالیسیوں کے باعث پاکستان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، جس میں دہشت گردی اور معاشی نقصانات شامل ہیں، 2001 کے بعد کی پالیسیوں نے ملک کو شدید مشکلات سے دوچار کیا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بہتری کے لیے علماء، قبائلی مشران اور تاجروں کو کردار ادا کرنا چاہیے، جب کہ سرحدی علاقوں میں تجارتی زون قائم کر کے تعلقات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی جیو اسٹریٹیجک اہمیت کو سمجھتے ہوئے خودمختار اور باوقار خارجہ پالیسی اپنانی چاہیے تاکہ قومی مفادات کا بہتر تحفظ ممکن ہو سکے۔






