ڈی ایس پی اصغر علی شاہ کے مطابق نامعلوم افراد نے رستم بازار کے نچلے فلور پر بارودی مواد نصب کیا تھا، جو بعد میں زوردار دھماکے کا سبب بنا۔ ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کا ہدف مفتی جنا میر ہی تھے۔
پولیس حکام کے مطابق دھماکے کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں۔ واقعے میں ملوث افراد کا سراغ لگانے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
ذرائع کے مطابق مفتی جنا میر علاقے میں مذہبی اور سماجی سرگرمیوں کے حوالے سے معروف تھے اور امن و امان کی بحالی کے لیے کردار ادا کرتے رہے۔ وہ مختلف قومی امن جرگوں میں بھی بطور مقرر شرکت کرتے تھے اور مقامی سطح پر امن کی کوششوں میں شامل رہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے محرکات جاننے اور ذمہ دار عناصر تک پہنچنے کے لیے تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔






