امیر جماعتِ اسلامی کے اس بیان نے دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر طوفان برپا کردیا اور یہ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔ جماعتِ اسلامی نے ٹوئٹر پر مذمت کیوں نہیں کرتے اور ٹوئیٹ کیوں نہیں کرتے جیسے ٹرینڈ چلانے شروع کردیے۔
معروف صحافی اقرارالحسن نے ایکس پر حافظ نعیم الرحمان کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ مجھے خوشی ہے کہ عمران خان کی جانب سے اسرائیل کی مذمت نہ کیے جانے کا سوال اب عوام کے ساتھ ساتھ سیاسی رہنما بھی پوچھ رہے ہیں، یہاں تک کہ خود پی ٹی آئی کارکن اور سپورٹر بھی فکرمند ہیں کہ جب عمران خان کے ٹوئیٹر اکاؤنٹ سے ہر طرح کی ٹوئیٹ ہو رہی ہے تو اسرائیل کی مذمت کیوں نہیں؟
جماعتِ اسلامی کے کارکن فرید رزاقی نے ایکس پر سوال اٹھایا کہ آپ کے خیال میں کیا وجہ ہوسکتی ہے، جس نے عمران خان کو حماس کی حمایت کرنے سے روک رکھا ہے؟
محمد عثمان نامی ایک کارکن نے تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ فرق واضح ہے، پی ٹی آئی کی توجہ کا مرکز عمران خان کی سالگرہ، جب کہ جماعتِ اسلامی کی پہلی ترجیح غزہ مارچ ہے۔
حسن محمود بھٹی نے طنزیہ انداز میں محمد رضوان اور بابراعظم کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ مذمت کرتے ہوئے جماعتیوں سے جان چھڑوالو یار، ہیش ٹیگ مذمت کیوں نہیں کرتے۔
عبدالرحمان جوئیہ نامی صارف نے عمران خان کی تصویر اور ان کے ٹوئیٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ٹرمپ کو مبارکباد دی جاسکتی ہے، مگر اسرائیل کی مذمت نہیں کی جاسکتی۔
ایک اور صارف نے گریٹا تھنبرگ کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ سویڈن سے یہ بچی فلسطین کے لیے دو بار اسرائیل کی قید کاٹ چکی ہے، لیکن یہاں مسلم امہ کی خودساختہ لیڈران ٹوئٹ نہیں کرسکتے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے کارکنان جماعتِ اسلامی کے اس مطالبے کے سامنے لڑکھڑاتے نظر آئے اور دفاع کرتے ہوئے پی ٹی آئی اور عمران خان کی جانب سے حماس اور اسرائیل کے حوالے سے ماضی میں کیے گئے ٹوئیٹس کی تفصیلات شیئر کرتے نظر آئے، جس نے جماعتِ اسلامی کے اس مطالبے کو مزید تقویت دے دی۔
پاکستان تحریکِ انصاف نے امیرِ جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کے عمران خان سے متعلق حالیہ ریمارکس پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے انہیں مضحکہ خیز، بدنیتی پر مبنی اور اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی حاصل کرنے کی ایک اور کوشش قرار دیا۔
پی ٹی آئی کے جاری بیان میں کہا گیا کہ حافظ نعیم جیل میں قید ایک عوامی لیڈر کے ایمان، غیرت اور جذبۂ فلسطین پر تبصرہ کر رہے ہیں، جو ان کی سیاسی بدنیتی اور فکری غلامی کی انتہا ہے۔
تحریکِ انصاف کے مطابق چند ماہ قبل حافظ نعیم خود فلسطین مارچ کے سلسلے میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان سے ملاقات کر چکے ہیں، جس موقع پر پی ٹی آئی نے جماعتِ اسلامی کے مارچ کی غیر مشروط حمایت اور بھرپور شرکت کی تھی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ عمران خان وہ واحد پاکستانی رہنما ہیں جنہوں نے ہمیشہ اسرائیل اور مقامی غلام حکمرانوں کے خلاف دوٹوک موقف اپنایا۔ فلسطین کے معاملے پر جتنا واضح اور جرات مندانہ مؤقف عمران خان کا ہے، اتنا کسی اور سیاستدان کا نہیں رہا۔ تحریکِ انصاف کے بیانات دراصل عمران خان ہی کے مؤقف کی ترجمانی کرتے ہیں۔
پی ٹی آئی کارکن حلیم عادل نے جوابی وار کرتے ہوئے کہا کہ حافظ نعیم کو پھر چابی دے دی گئی ہے، پھر ڈگ ڈگی بجا دی گئی ہے، عمران خان نے اپنے اسرائیل کے خلاف اقوام متحدہ میں آواز اٹھائی، جب کہ حافظ نعیم میئر بننے کے لیے عمران خان کی منتیں کرتا رہا۔
پی ٹی آئی کارکن فیصل خان نے عمران خان کے پرانے ٹوئیٹس کی ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ اسرائیل کے خلاف اور فلسطین کے حق میں عمران خان کے یہ ٹویٹس حافظ نعیم الرحمان تک ضرور پہنچا دیں۔
واضح رہے کہ تاحال جماعتِ اسلامی کے مؤقف کو عوامی سطح پر خاصی پزیرائی دی جارہی ہے اور کہا جارہا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ عمران خان نہ ہی حماس کی حمایت میں ٹوئیٹ کررہے ہیں اور نہ ہی اسرائیل کی مذمت کررہے ہیں۔






