مذاکرات کے بعد مشترکہ میڈیا ٹاک میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے جماعت اسلامی کو مذاکرات کی دعوت دی اور ان سے تجاویز مانگی تھیں، جماعت اسلامی نے اپنی تجاویز حکومتی ٹیم کے حوالے کردی ہیں جن کا جائزہ لیا جائے گا۔
احسن اقبال نے کہا کہ اگر جماعت اسلامی کی کوئی تجویز ناقابلِ عمل ہوئی تو اس سے بھی جماعت اسلامی کو آگاہ کیا جائے گا۔ متعلقہ اداروں کی رائے لینے کے بعد جمعرات کو دوبارہ مذاکرات ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کبھی نہیں چاہتی کہ عوام پر بوجھ پڑے، تاہم بعض معاملات میں حکومت مجبور ہوتی ہے۔ دنیا بھر کی معیشتیں ایران جنگ سے متاثر ہوئی ہیں، خطے میں کشیدگی کم ہوگی تو تیل کی قیمتیں بھی کم ہوں گی۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت ہمیشہ کھلے دل کے ساتھ اچھی تجاویز کا خیرمقدم کرتی ہے، تاہم حکومت کی جو بندشیں اور مجبوریوں ہیں وہ دیگر سیاسی جماعتوں کی نہیں ہوتیں۔
اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے جماعت اسلامی سے مذاکرات کے لیے حکومتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، ہم نے اپنی تمام تجاویز حکومتی ٹیم کے حوالے کردی ہیں۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی نے حکومت کے سامنے 6 تجاویز رکھی ہیں اور مذاکرات کا پہلا دور خوشگوار ماحول میں ہوا ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، حکومت اپنے اخراجات میں کمی کرے، عوام کو ریلیف دینے کی گنجائش موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ پٹرولیم لیوی سے معیشت متاثر ہورہی ہے۔ پٹرول اور ڈیزل پر 80 روپے براہ راست پٹرولیم لیوی ہے، حکومت ہماری تجاویز کا جائزہ لے اور عوام کو ریلیف دے۔
نائب امیر جماعت اسلامی نے توقع ظاہر کی کہ حکومت 3 روز میں تجاویز کا جائزہ لے گی اور عوام کو ریلیف ملے گا۔
لیاقت بلوچ نے واضح کیا کہ مذاکرات کے باوجود جماعت اسلامی کا دھرنا اور احتجاج جاری رہے گا۔ جماعت اسلامی نے حکومت کو بھی اپنے مؤقف اور آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کردیا ہے۔







