موٹروے پولیس کے ترجمان کے مطابق موٹروے ایم 1 پشاور سے رشکئی تک، موٹروے ایم 2 ٹھوکر نیاز بیگ سے چکری انٹرچینج تک، موٹروے ایم 3 فیض پور سے جڑانوالہ تک، اور موٹروے ایم 4 پنڈی بھٹیاں سے فیصل آباد تک ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہیں۔ اسی طرح موٹروے ایم 11 لاہور سے سمبڑیال تک اور موٹروے ایم 14 داؤد خیل سے عیسیٰ خیل تک بھی ٹریفک معطل ہے۔
موٹروے پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، دورانِ سفر فوگ لائٹس استعمال کریں، اور تیز رفتاری سے اجتناب کریں تاکہ کسی ناخوشگوار حادثے سے بچا جا سکے۔
اسی دوران، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) نے شمالی علاقوں میں شدید برف باری کے حوالے سے 16 سے 22 جنوری تک الرٹ جاری کر دیا ہے۔ الرٹ کے مطابق گلگت بلتستان، بالائی خیبر پختونخوا، اور آزاد کشمیر کے متعدد علاقوں میں موسلادھار بارش اور شدید برف باری کا امکان ہے۔
NDMA کے مطابق گلگت، ہنزہ، سکردو، استور، چترال، دیر، مالم جبہ، سوات، بٹگرام، ناران، کاغان، گلیات اور مری میں درمیانے سے شدید درجے کی برف باری متوقع ہے، جبکہ آزاد کشمیر کے نیلم ویلی، مظفرآباد، راولاکوٹ، باغ اور پونچھ میں بھی بارش اور برف باری کے امکانات ہیں۔ شدید برف باری کے نتیجے میں سڑکوں پر پھسلن، عارضی بندش اور حدِ نگاہ میں نمایاں کمی کا خدشہ ہے، جب کہ پہاڑی علاقوں میں برفانی تودے گرنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: سرگودھا میں المناک حادثہ، دھند کے باعث ٹرک نہر میں جا گرا، 14 افراد ہلاک
مزید برآں، 20 سے 23 جنوری کے دوران پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے مختلف حصوں میں بارش متوقع ہے، جس کے باعث بجلی کی ترسیل اور دیگر بنیادی سہولیات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ NDMA نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ پہاڑی علاقوں میں غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں، اور اگر سفر ناگزیر ہو تو گاڑیوں کے ٹائروں پر حفاظتی زنجیروں کا استعمال لازمی بنائیں۔
الرٹ میں صوبائی اداروں اور ضلعی انتظامیہ کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ برف باری کے پیش نظر پیشگی انتظامات مکمل رکھیں، برف ہٹانے والی مشینری کی دستیابی یقینی بنائیں، اور عوام کی سہولت اور حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام کریں۔
ماہرین موسمیات کے مطابق ملک میں آنے والے چند دنوں کے دوران شدید دھند، بارش اور برف باری کے سبب ٹریفک حادثات کے امکانات بڑھ جائیں گے، اور شہریوں کو چاہیے کہ موسم کی تازہ صورتحال سے آگاہ رہیں اور احتیاطی اقدامات اختیار کریں۔






