لاہور میں ممبرسازی ڈرائیو کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعتِ اسلامی کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت مسلسل کسانوں کا استحصال کر رہی ہے۔ گندم کی قیمت 3500 روپے فی من مقرر کی گئی، مگر کسانوں کو سرکاری نرخ بھی نہیں مل رہے، جب کہ باردانہ صرف مخصوص افراد کو دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مہنگائی اور ٹیکسز کے بوجھ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ غریب عوام فی لیٹر پٹرول پر 125 روپے تک ٹیکس ادا کر رہے ہیں، جب کہ صرف دو سال میں 2600 ارب روپے لیوی کی مد میں اکٹھے کیے گئے، لیکن عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملا۔
حافظ نعیم الرحمان نے توانائی کے شعبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مہنگے ایل این جی معاہدے کیے گئے، گیس پلانٹس پر روزانہ لاکھوں ڈالر کرایہ دیا جا رہا ہے، جب کہ آئی پی پیز کے ناجائز معاہدوں نے عوام پر بوجھ ڈال دیا ہے۔
جماعت اسلامی پاکستانافتتاحی تقریب: بدل دو نظام ممبر شپ ڈرائیو 2026 مون مارکیٹ اقبال ٹاؤن لاہور
Posted by Hafiz Naeem ur Rehman on Saturday 25 April 2026
ان کا کہنا تھا کہ 49 ہزار میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے باوجود ملک میں لوڈشیڈنگ جاری ہے، جو حکومتی نااہلی کا ثبوت ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے الزام لگایا کہ حکومت عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے اشتہارات پر اربوں روپے خرچ کر رہی ہے۔ گڈ گورننس کے نام پر جھوٹے دعوے کیے جا رہے ہیں، جب کہ ایک کروڑ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے بجائے اداروں کو آؤٹ سورس کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے حکمرانوں کے طرزِ زندگی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اربوں روپے کے جہاز اور کروڑوں کی گاڑیاں خریدی جا رہی ہیں، جب کہ غریب عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت بیوروکریسی اور جاگیرداروں کو سہولت دیتی ہے، مگر عام آدمی کو نہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ صرف چہرے نہیں بلکہ پورا نظام بدلا جائے۔






