رہائی کے بعد دونوں رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے مرکزی دفتر بہادر آباد پہنچے، جہاں سینئر رہنما انیس احمد قائم خانی نے ان کے اہلِ خانہ کے ہمراہ استقبال کیا۔ اس موقع پر پارٹی کے مرکزی رہنما، قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین، ذمہ داران اور کارکنان کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔
انیس احمد قائم خانی نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ بلدیہ فیکٹری کیس میں انصاف کی فراہمی کے بعد اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ایم کیو ایم پاکستان کے کارکنان بلکہ پوری مہاجر قوم کو بھی سرخرو کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس کامیابی پر اللہ رب العزت کے حضور سجدۂ شکر بجا لاتے ہیں اور حق و سچ کی اس فتح پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مشکل ترین حالات میں بھی کارکنان اور ان کے اہلِ خانہ نے صبر، استقامت اور حوصلے کا مظاہرہ کیا، اور آج حق کی سربلندی پر پوری قوم اللہ تعالیٰ کی شکر گزار ہے۔
اس موقع پر بلدیہ ٹاؤن سے منتخب رکن سندھ اسمبلی فہیم پٹنی نے بھی رحمان بھولا اور زبیر سینئر کا استقبال کیا اور ان کی رہائی پر خوشی کا اظہار کیا۔
یاد رہے کہ عبدالرحمان عرف بھولا اور زبیر عرف چریا کو 11 ستمبر 2012 کو کراچی میں پیش آنے والے سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری (علی انٹرپرائزز) میں دانستہ طور پر آگ لگانے اور 260 سے زائد معصوم مزدوروں کو زندہ جلانے کے جرم میں جیل ہوئی تھی۔
تفتیش اور جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ کے مطابق، متحدہ قومی موومنٹ کے اس وقت کے سیکٹر انچارج رحمان بھولا نے فیکٹری مالکان سے 20 کروڑ روپے بھتے اور فیکٹری میں شراکت داری کا مطالبہ کیا تھا۔
بھتہ نہ دینے پر مبینہ طور پر پارٹی قیادت کے ایما پر زبیر چریا اور اس کے ساتھیوں نے فیکٹری میں کیمیکل (آتش گیر مادہ) چھڑک کر آگ لگائی۔
ستمبر 2020 میں انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر رحمان بھولا اور زبیر چریا کو سزائے موت اور عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ملزمان نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی، تاہم سندھ ہائیکورٹ نے بھی ان کی سزائے موت کو برقرار رکھا۔
رواں ماہ 10 جون 2026 کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے رحمان بھولا اور زبیر چریا کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ کے سزائے موت کے فیصلوں کو کالعدم قرار دے کر انہیں بری کرنے کا حکم جاری کیا۔ جس کے بعد قانونی کارروائی مکمل ہونے پر 23 جون 2026 کو دونوں ملزمان کو کراچی کی سینٹرل جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔







