محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کرفیو 28 جولائی کی رات 8 بجے سے نافذ ہوا، جس کے دوران ہر قسم کی عوامی نقل و حرکت، اجتماعات، جلوس اور غیر ضروری سفر پر مکمل پابندی عائد رہے گی۔
شہری صرف ضلعی انتظامیہ یا مجاز اتھارٹی کی اجازت سے ہی گھروں سے باہر نکل سکیں گے، جب کہ ہنگامی طبی خدمات، ریسکیو، یوٹیلٹی سروسز اور سرکاری ڈیوٹی انجام دینے والے اہلکاروں کو استثنا حاصل ہوگا۔
حکومت بلوچستان کے مطابق 28 جولائی کو دہشت گردوں نے نوشکی کے مغربی بائی پاس پر واقع فرنٹیئر کور (ایف سی) کی ایک چوکی پر حملہ کیا، جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سکیورٹی آپریشن شروع کیا۔
ایڈیشنل چیف سیکریٹری محمد حمزہ شفقت کے مطابق ضلع انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کمیٹی (ڈی آئی سی سی) کی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ضلع میں امن و امان کی صورتحال انتہائی حساس ہو چکی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ نوشکی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں، حساس سرکاری تنصیبات اور قومی شاہراہ این-40 پر دہشت گرد حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے شہریوں، سرکاری و نجی املاک اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق اگست کے دوران مزید حملوں کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
نوشکی کیوں اہم ہے؟
نوشکی بلوچستان کا ایک اہم سرحدی ضلع ہے جو کوئٹہ سے تقریباً 150 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے اور کوئٹہ-تفتان آر سی ڈی ہائی وے (این-40) پر واقع ہونے کے باعث پاکستان کو ایران سے ملانے والی اہم تجارتی اور اسٹریٹجک گزرگاہ سمجھا جاتا ہے۔
افغانستان اور ایران کی سرحدوں کے قریب واقع ہونے کے باعث یہ ضلع نہ صرف بین الاقوامی تجارت بلکہ سکیورٹی فورسز کی نقل و حرکت کے لیے بھی انتہائی اہم حیثیت رکھتا ہے، جس کی وجہ سے عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیاں بھی یہاں زیادہ دیکھی جاتی ہیں۔
گزشتہ دو برس میں بڑے حملے
نوشکی گزشتہ دو برسوں کے دوران کئی بڑے دہشت گرد حملوں کا مرکز رہا ہے۔ 16 مارچ 2025 کو نوشکی-دالبندین شاہراہ پر سکیورٹی فورسز کے قافلے پر خودکش حملے میں پانچ اہلکار جاں بحق اور 12 زخمی ہوئے تھے۔
31 جنوری 2026 کو مسلح افراد نے ضلع پر بڑا حملہ کیا، جس میں متعدد سکیورٹی اہلکار مارے گئے، جب کہ اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو کئی روز تک یرغمال رکھا گیا۔ اس دوران مسلح افراد کئی دن تک شہر کے مختلف حصوں میں موجود رہے۔
حکام کے مطابق گزشتہ دو برس میں ضلع میں ہونے والے زیادہ تر حملوں کا ہدف سکیورٹی فورسز رہی ہیں، جن کی ذمہ داری اکثر کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) اور دیگر مسلح بلوچ علیحدگی پسند گروپ قبول کرتے رہے ہیں۔
‼️🚨نوشکی عسکریت پسندوں کی جانب سے سیکورٹی فورسز کی چوکیوں پر حملے کی اطلاعات... شہر اور بادل کریز کے مختلف علاقوں میں شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری، جبکہ خوف و ہراس کے باعث دکانیں بند رہیں۔ pic.twitter.com/dVOXGU4JhA
— Pakistan international پاکستان انٹرنیشنل (@Pakintlnews) July 28, 2026
حکومت کا مؤقف
بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ کرفیو کا مقصد شہریوں کی جان و مال کا تحفظ، سکیورٹی فورسز کو مؤثر کارروائی کا موقع فراہم کرنا اور ممکنہ دہشت گرد حملوں کو روکنا ہے۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، جب کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نوٹیفکیشن پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔







