اجلاس کے دوران سحر کامران نے کہا کہ آپ وزیر ہیں اور اونچی آواز میں بات کر رہے ہیں، میری بے عزتی ہوئی ہے اور میں اس پر سمجھوتہ نہیں کروں گی۔ ان کے اس مؤقف کے بعد انہوں نے احتجاجاً اجلاس چھوڑ دیا۔

اس پر وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایک رکن نے کمیٹی کو ہائی جیک کر رکھا ہے، اگر ریکارڈ نکال لیا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ ان کے دور میں کتنی بھرتیاں ہوئیں۔

عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ آنکھیں دکھانا روایت بن گیا ہے، ایک رکن کا پوری کمیٹی پر حاوی ہونا قابل قبول نہیں، میرا بھی احتجاج ریکارڈ کیا جائے۔

اجلاس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی تلخ کلامی کے باعث کچھ دیر کے لیے کشیدگی پیدا ہوگئی، جب کہ سحر کامران کے واک آؤٹ کے بعد اجلاس کی کارروائی جاری رہی۔