نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز کے مطابق سلمان اکرم راجا نے ایک بار پھر مذاکرات کے حوالے سے پارٹی کے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کسی وقتی مفاہمت، ذاتی سہولت یا پسِ پردہ معاملات کے لیے بات چیت نہیں کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مذاکرات ہونے ہیں تو ان کا محور شفاف انتخابات، عوامی مینڈیٹ کی بحالی اور آزاد عدلیہ کا تحفظ ہونا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بانی چیئرمین عمران خان کو نظر انداز کر کے کسی قسم کا سیاسی عمل آگے نہیں بڑھ سکتا، عمران خان اس وقت ملک کی سب سے بڑی سیاسی حقیقت ہیں اور انہیں سائیڈ لائن کر کے کیے گئے فیصلے قابلِ قبول نہیں ہوں گے۔
انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ اپوزیشن سے مذاکرات ہو رہے ہیں، تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ سب کچھ معمول کے مطابق ہے۔ ان کے مطابق، "ہمیں کہا جاتا ہے کہ آئیں، ساتھ بیٹھیں، چائے پئیں، بسکٹ کھائیں تاکہ یہ تاثر قائم ہو کہ معاملات ٹھیک ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔"
انہوں نے ماضی کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی پہلے بھی حکومت کے ساتھ بیٹھ چکی ہے، ملاقاتیں ہوئیں، چائے اور بسکٹ بھی ہوئے، لیکن نتیجہ صفر نکلا،محض تصویریں بنوانے اور سیاسی دکھاوے کے لیے مذاکرات کا حصہ نہیں بنیں گے۔
دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ نے پی ٹی آئی کے مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان خود مذاکرات کے حق میں نہیں ہیں، جب بھی پی ٹی آئی کے رہنما ان سے ملتے ہیں تو وہ یہی کہتے ہیں کہ عمران خان مذاکرات پر آمادہ نہیں۔
ان کے مطابق پی ٹی آئی رہنماؤں کا یہ بھی کہنا ہوتا ہے کہ اگر انہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا موقع دیا جائے تو وہ انہیں بات چیت کے لیے قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔
وزیراعظم کے مشیر نے پی ٹی آئی کو مشورہ دیا کہ وہ پارلیمانی سیاست میں فعال کردار ادا کرے اور قومی اسمبلی و سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹیوں میں واپس آ کر بیٹھے، پی ٹی آئی کو کچھ معاملات پر حکومت کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے جبکہ بعض داخلی معاملات میں بھی بہتری کی گنجائش موجود ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مذاکرات کے دعوؤں کے باوجود دونوں جانب بداعتمادی برقرار ہے، اور فی الحال کسی بامعنی سیاسی ڈائیلاگ کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔






