نجی ٹی وی چینل اے آر وائے کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیا پاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ملازمین کی تنخواہیں فوری بحال کرنے کا حکم دے دیا۔

رپورٹ کے مطابق عدالت نے سماعت کے دوران ملازمین کی برطرفی کے احکامات کی قانونی حیثیت پر بھی سوال اٹھایا۔ عدالت نے اتھارٹی حکام کو ہدایت کی کہ پالیسی بورڈ کے خاتمے سے متعلق فیصلہ عدالت میں جمع کرایا جائے۔

مزید براں کیس کی سماعت کے دوران درخواست گزار وکیل محمد رمضان خان ایڈووکیٹ نے مؤقف اپنایا کہ تمام ملازمین گزشتہ پانچ برس سے باقاعدہ سینکشن شدہ آسامیوں پر کام کر رہے ہیں۔ تاہم قائم مقام چیئرمین نے سروس رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بغیر کسی سماعت کے انہیں برطرف کر دیا۔

واضع رہے کہ وکیل کا کہنا تھا کہ کابینہ ڈویژن نے اپنے جمع کرائے گئے جواب میں واضح کیا ہے کہ برطرفی کے عمل میں اس کا کوئی کردار نہیں تھا۔ عدالت نے اتھارٹی کے وکیل سے استفسار کیا کہ ملازمین کی تنخواہیں کیوں روکی گئیں۔ بعد ازاں عدالت نے سماعت ملتوی کر دی۔