الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق یہ کارروائی الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 137 کے تحت عمل میں لائی گئی ہے، جس کے مطابق ہر رکنِ اسمبلی پر لازم ہے کہ وہ ہر سال 31 دسمبر تک اپنے، اپنے شریکِ حیات اور زیر کفالت بچوں کے اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات جمع کرائے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ متعدد ارکان اسمبلی مقررہ مدت کے باوجود اپنے اثاثوں کے گوشوارے جمع کرانے میں ناکام رہے، جس کے باعث الیکشن کمیشن نے قانونی کارروائی کرتے ہوئے ان کی رکنیت معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق 15 جنوری تک گوشوارے جمع نہ کرانے والے ارکان کی رکنیت 16 جنوری 2026 سے معطل تصور کی جائے گی اور وہ اس وقت تک پنجاب اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے کوئی قانون سازی یا اجلاس میں شرکت نہیں کر سکیں گے جب تک مطلوبہ تفصیلات الیکشن کمیشن کو فراہم نہیں کر دیتے۔

معطل کیے گئے ارکان میں مختلف حلقوں سے تعلق رکھنے والے اراکین شامل ہیں، جن کے نام الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں درج کر دیے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ اقدام شفافیت، احتساب اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے اور اس معاملے میں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ جیسے ہی متعلقہ ارکان اپنے اثاثوں اور واجبات کے گوشوارے جمع کرا دیں گے، قانون کے مطابق ان کی رکنیت بحال کی جا سکتی ہے، تاہم مقررہ وقت کی خلاف ورزی پر کارروائی ناگزیر ہے۔