پولیس نے واقعے کو مشکوک قرار دیتے ہوئے خودکشی، قتل اور دیگر تمام ممکنہ پہلوؤں پر تحقیقات شروع کر رکھی ہیں، جب کہ اب تک ٹیوشن سینٹر کے مالک سمیت تین افراد کو حراست میں لے کر تفتیش کی جا رہی ہے۔
واقعہ کب اور کیسے پیش آیا؟
پولیس کے مطابق واقعہ 9 جولائی کو لاہور کے علاقے اچھرہ میں واقع ایک نجی ٹیوشن سینٹر میں پیش آیا۔
نعیمہ معمول کے مطابق اپنی دو بہنوں کے ساتھ ٹیوشن پڑھنے گئی تھی۔ دورانِ کلاس وہ واش روم گئی، لیکن تقریباً دس منٹ گزرنے کے باوجود واپس نہ آئی۔
جب کافی دیر تک بچی باہر نہ نکلی تو پہلے اس کی چھوٹی بہن نے دروازہ کھلوانے کی کوشش کی، تاہم کوئی جواب نہ ملا۔ بعد ازاں بڑی بہن اور ٹیوشن سینٹر کی انتظامیہ بھی وہاں پہنچ گئی۔
پولیس کے مطابق آخرکار واش روم کا دروازہ کھولا گیا تو اندر نعیمہ بے ہوش حالت میں موجود تھی۔ اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد بتایا کہ بچی اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ چکی تھی۔
والد کو واقعے کی اطلاع کیسے ملی؟
مقتولہ کے والد کے مطابق انہیں ٹیوشن سینٹر سے فون کر کے بتایا گیا کہ ان کی بیٹی بے ہوش ہو گئی ہے۔
والد نے بتایا کہ وہ فوری طور پر سینٹر پہنچے اور بچی کو اسپتال لے گئے، لیکن ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کی بیٹی کا انتقال پہلے ہی ہو چکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی مزید دو بیٹیاں بھی اسی ٹیوشن سینٹر میں زیر تعلیم ہیں۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کیا انکشاف ہوا؟
پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد نعیمہ کی لاش ورثاء کے حوالے کر دی گئی۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق بچی کے گلے پر رسی کے پھندے کا واضح نشان موجود ہے اور موت گلا گھٹنے کے باعث واقع ہوئی۔ جسم پر تشدد یا زبردستی کے کوئی واضح نشانات نہیں ملے جب کہ موت کی حتمی وجہ کا تعین فرانزک اور کیمیکل ایگزامینر کی تفصیلی رپورٹس کے بعد کیا جائے گا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی رپورٹ صرف ابتدائی مشاہدات پر مبنی ہے، جب کہ اصل نتیجہ تمام سائنسی رپورٹس مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گا۔
واش روم کے اندر کیا صورتحال تھی؟
پولیس کے مطابق واقعے کے وقت واش روم کا دروازہ لاک نہیں تھا۔
تحقیقات میں معلوم ہوا کہ سب سے پہلے مقتولہ کی چھوٹی بہن نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی، تاہم جب دروازہ نہ کھلا تو بڑی بہن کو بلایا گیا۔ بعد ازاں دروازہ کھولا گیا تو اندر نعیمہ مردہ حالت میں موجود تھی۔
پولیس اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ اگر دروازہ لاک نہیں تھا تو بچی اتنی دیر تک باہر کیوں نہ آ سکی اور واقعے کے دوران وہاں کیا کچھ پیش آیا۔
پولیس نے کن افراد کو حراست میں لیا؟
واقعے کے بعد پولیس نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ٹیوشن سینٹر کے مالک رؤف کو حراست میں لے لیا۔
بعد ازاں اس کی دو بیٹیوں کو بھی پوچھ گچھ کے لیے تحویل میں لے لیا گیا۔
یوں اس وقت مجموعی طور پر تین افراد سے مختلف پہلوؤں پر تفتیش جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ واقعے کے وقت کون کہاں موجود تھا اور کسی قسم کی غفلت یا مجرمانہ عمل تو نہیں ہوا۔
تفتیش اب کہاں تک پہنچی؟
پولیس اور فرانزک ٹیموں نے جائے وقوعہ سے اہم شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔
تحقیقات کے دوران جائے وقوعہ سے فنگر پرنٹس اور ڈی این اے سمیت دیگر سائنسی شواہد جمع کیے گئے ہیں۔ تمام نمونے فرانزک لیبارٹری بھجوا دیے گئے جب کہ کیمیکل ایگزامینر کی رپورٹ بھی طلب کر لی گئی ہے ۔ اسی طرح جائے وقوعہ اور اطراف میں نصب تمام سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز قبضے میں لے کر ان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل، فرانزک اور ڈی این اے شواہد کی مدد سے واقعے کی اصل حقیقت سامنے لائی جائے گی۔
کن پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں؟
پولیس حکام کے مطابق فی الحال کسی ایک نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔
اسی لیے تحقیقات میں تمام امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے جیسے آیا یہ خودکشی کا واقعہ تھا؟
یا کسی نے قتل کیا؟ یا پھر اس میں کسی قسم کی غفلت یا دیگر مجرمانہ پہلو موجود ہیں؟ اس کے علاوہ کہ آخر کمسن بچی نے اگر خودکشی کی ہے تو کیوں کی ہے اس کے پیچھے کی وجہ کیا ہے؟
ٹیوشن سینٹر میں 12 سالہ طالبہ کے ساتھ کیا ہوا؟ تحقیقات جاری #AikNews #CrimeNews #PakistanNews #MysteryCase #Investigation pic.twitter.com/Soscv3Iiec
— Aik News (@AikNewsPK) July 10, 2026
پولیس کا کہنا ہے کہ تمام ممکنہ زاویوں سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور کسی بھی امکان کو فی الحال خارج نہیں کیا گیا۔
ماضی سے متعلق کون سی بات سامنے آئی؟
پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی معلومات میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ متوفیہ ماضی میں ایک مرتبہ مبینہ طور پر خودکشی کی کوشش کر چکی تھی۔
تاہم پولیس نے واضح کیا ہے کہ اس دعوے کی بھی مکمل جانچ کی جا رہی ہے اور صرف اس بنیاد پر کسی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکتا۔ تحقیقات مکمل ہونے تک اس پہلو کو بھی دیگر شواہد کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے گا۔
اب آگے کیا ہوگا؟
پولیس کے مطابق کیس کی آئندہ پیش رفت فرانزک رپورٹ، ڈی این اے تجزیے، کیمیکل ایگزامینر کی رپورٹ، سی سی ٹی وی فوٹیجز اور دیگر سائنسی شواہد پر منحصر ہوگی۔
حکام کا کہنا ہے کہ تمام رپورٹس موصول ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت کا تعین کیا جائے گا اور اگر کسی فرد کا کردار ثابت ہوا تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب مقتولہ کے اہل خانہ واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ کمسن طالبہ کی موت کی اصل حقیقت سامنے آ سکے۔






