تفصیلات کے مطابق اڈیالہ روڈ، داہگل ناکہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ حکومت نے ہمارے مطالبات کے باوجود اپنی پالیسی اسٹیٹمنٹ پیش نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے لوگ مخلص ہیں اور وہاں کہیں کوئی پناہ گاہ موجود نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریکِ انصاف پہلے ہی افغانستان کو یہ پیغام دے چکی ہے کہ وہ کسی کی پراکسی نہ بنے، جب کہ ایران پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ ہمیں یہ پیغام دیا گیا تھا کہ جب وزیرِاعظم اسمبلی میں آئیں گے تو ملاقات ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ رانا صاحب اور انجم صاحب بھی آئے تھے، تاہم ملاقات نہ ہو سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ چاہے ملاقاتیں ہوں یا مذاکرات، ان میں سنجیدگی ضروری ہے اور مذاکرات کے لیے ہماری جانب سے کوئی شرط نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ اپنے تحفظات کا اظہار کیا، تاہم مئی کے مہینے میں بھی ہم پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ اللہ نے ہمیں ایسی کامیابیاں دیں جن پر تاریخ رقم ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب ہمیں ملاقات کی دعوت دی گئی تو ہم نے کہا کہ بہتر ہوگا کہ اس بارے میں ایوان کو بھی اعتماد میں لیا جائے۔ ہماری صرف یہی ایک شرط تھی۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پاکستان تحریکِ انصاف خطے کی صورتحال کے حوالے سے اپنا واضح مؤقف دے چکی ہے اور جو پاکستان کے دشمن ہیں وہ دہشت گرد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لیڈر شپ کی جانب سے رجیم چینج کی باتیں درست نہیں ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کی صحت کے حوالے سے سماعت کے بعد @BarristerGohar کی میڈیا سے گفتگو pic.twitter.com/kpXW1yl4Qs
— PTI (@PTIofficial) March 10, 2026
انہوں نے کہا کہ اگر پیٹرولیم مصنوعات کا مناسب ذخیرہ حکومت کے پاس ہوتا تو ایسے حالات پیدا نہ ہوتے۔ انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ چاہے آپ زوم پر اجلاس کر لیں، مگر اپنی شاہ خرچیوں کو بند کریں۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ قومی اسمبلی ملک کا اہم ترین فورم ہے، ایسے میں یہ کہنا کہ معاملات وزیرِاعظم ہاؤس میں طے کیے جائیں گے سمجھ سے بالاتر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چند رہنماؤں کو بریف کرنے کے بجائے پورے ایوان کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان تحریکِ انصاف نے بطور جماعت ایران سے بھی درخواست کی ہے کہ مسلم ممالک کو نشانہ نہ بنایا جائے کیونکہ دشمن یہی چاہتا ہے کہ مسلمان آپس میں لڑیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے صرف یہ کہا تھا کہ افغانستان کے لوگوں کو کچھ وقت دیا جائے تاکہ وہ یہاں سے واپس جا سکیں۔
بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات پر من و عن عمل ہونا چاہیے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ صورتحال میں بھارت افغانستان کے پیچھے کھڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی ملک کے پانچ قونصل خانے ہیں تو ان کا مقصد ایک ہی ہونا چاہیے، تاہم بھارت قونصل خانوں کی آڑ میں دہشت گردی کروا رہا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی فیملی جیل کے باہر موجود ہے، انہیں اور وکلا کو ملاقات کی اجازت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پیٹرول کی قیمتیں بڑھا دی گئیں اور نیٹ میٹرنگ بھی ختم کر دی گئی، حکومت کو عوام کا کچھ تو خیال کرنا چاہیے۔





