انہوں نے کہا کہ بلدیاتی حکومتوں کے ذریعے اختیارات عوام تک منتقل ہونے چاہئیں مگر موجودہ حکمران اس سے خوفزدہ ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ یہ حکمران فارم 47 کی پیداوار ہیں اور انہیں ڈر ہے کہ گراس روٹ لیول سے کوئی آگے نہ آ جائے، چاہے وہ انہی کی جماعت سے کیوں نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ جمہوریت پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں جو ہمیں کسی صورت منظور نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں آخری مرتبہ بلدیاتی انتخابات 2015 میں ہوئے اور اب یہ حکومت انتخابات کرانے کے لیے تیار نہیں۔ میئر کے لفظ سے ان کو خوف آتا ہے کہ کہیں کوئی میئر وزیراعلیٰ کو چیلنج نہ کر دے۔ انہوں نے کہا کہ 2001 کا بلدیاتی نظام ایک آمر کا بنایا ہوا نظام تھا لیکن اس کے باوجود اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے گئے تھے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ عوام کی بے توقیری ہمیں قبول نہیں، یہ صرف عام آدمی کا نہیں بلکہ پورے جمہوری نظام کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ کہتے ہیں آپ کی گورننس اچھی ہے، دراصل آپ کی گورننس نہیں بلکہ آپ کے اشتہارات اچھے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک زراعت کے شعبے میں شدید پیچھے جا چکا ہے اور کسان ہر سال اس انتظار میں رہتا ہے کہ گندم کا ریٹ بہتر نکلے گا یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مڈل مین کسان سے سستے داموں گندم خریدتے ہیں اور مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوام کو مہنگا آٹا خریدنا پڑتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت کے اپنے نمائندے اسمبلی میں کھڑے ہو کر تسلیم کرتے ہیں کہ گندم کا ریٹ درست نہیں نکالا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کسان ڈے کے موقع پر حکومت یہ بتائے کہ ڈی اے پی کھاد اتنی مہنگی کیوں ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی دھرنوں کا دائرہ کار وسیع کر رہی ہے اور 21 دسمبر سے ڈویژنل سطح پر احتجاج اور مظاہرے کیے جائیں گے۔ ان دھرنوں میں آئندہ کے لائحہ عمل کا بھی اعلان کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے باوجود غربت ختم نہیں ہوئی۔ انہوں نے احسن اقبال کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایک کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں تو پھر اس کا ذمہ دار کون ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہسپتالوں اور بیسک ہیلتھ یونٹس کو پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کیا جا رہا ہے، جبکہ پرائیویٹ ہسپتال پہلے ہی موجود ہیں، اب غریب عوام علاج کے لیے کہاں جائے۔ انہوں نے کہا کہ بے روزگاری کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسٹاک ایکسچینج اگر سٹے کی بنیاد پر چل رہی ہو تو اس کو ترقی نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ گیارہ فیصد سود پر کوئی ملک کیسے ترقی کر سکتا ہے، جبکہ حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ سود کی شرح سنگل ڈیجٹ پر لائی جائے گی، جو ابھی تک پورا نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ نام نہاد سیاست دانوں اور بیوروکریسی نے اس نظام پر قبضہ کیا ہوا ہے، ان کی تعداد بہت کم ہے مگر اثر و رسوخ زیادہ ہے۔ جماعت اسلامی 21 دسمبر کو اسی نظام کے خلاف ملک گیر دھرنے دے گی۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ یہ حکمران صنعتوں کو آگے نہیں بڑھانا چاہتے، جس کی وجہ سے ملکی معیشت کو نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکمران اب عوام سے جھوٹ بولنا بند کریں۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف، شہباز شریف اور آصف علی زرداری قوم کو جواب دیں کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر آج تک کام کیوں شروع نہیں ہو سکا۔
انہوں نے کہا کہ یہ سب ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشامد میں لگے ہوئے ہیں، حالانکہ ٹرمپ نے ایسا کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا جس پر انہیں نوبل انعام کے لیے نامزد کیا جاتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ آج تک حل نہیں ہو سکا، اس کے باوجود ایسی سیاست جاری ہے جو قوم کے مفاد میں نہیں۔






