اب 2026 کا مون سون شروع ہو چکا ہے۔

محکمہ موسمیات اور این ڈی ایم اے نے شدید بارشوں، شہری سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ جیسے خطرات سے خبردار کیا ہے۔

اس بار کتنی بارشیں ہوں گی کتنا نقصان ہو سکتا ہے اور حکومت اس کے لیے کتنا تیار ہے اس پر ہم بعد میں بات کریں گے یہاں اہم بات یہ ہے کہ پاکستان میں خطرہ صرف مون سون بارشوں تک محدود نہیں رہا۔ 

شمالی علاقوں میں بڑھتا ہوا درجہ حرارت گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار بڑھا رہا ہے۔ گلگت بلتستان میں رواں سال درجہ حرارت 48.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچا، جو 1971 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

پاکستان میں تقریباً 13 ہزار گلیشیئرز موجود ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق گلیشیئر پگھلنے سے گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں 3 ہزار سے زائد گلیشیائی جھیلیں بن چکی ہیں، جن میں سے 33 جھیلیں خطرناک حد تک حساس قرار دی گئی ہیں۔

ان جھیلوں کے پھٹنے سے چند گھنٹوں میں پانی اور ملبہ نیچے آباد علاقوں تک پہنچ سکتا ہے، جس سے سڑکیں، پل، فصلیں اور بستیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔

2025 کے سیلاب کے بعد حکومت نے سیلاب سے بچاؤ کے منصوبوں، چھوٹے ڈیموں اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ پر کام شروع کیا، لیکن ایک بڑا مسئلہ اب بھی موجود ہے اور وہ ہے بروقت اطلاع کا نظام۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق گزشتہ سال کئی متاثرہ علاقوں میں ارلی وارننگ سسٹم موجود ہی نہیں تھا۔ یعنی کچھ علاقوں میں خطرہ آنے سے پہلے لوگوں تک اطلاع پہنچانے کا نظام نہیں تھا۔

2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد پاکستان کے لیے عالمی سطح پر تقریباً 11 ارب ڈالر امداد کے وعدے کیے گئے تھے، لیکن اقوام متحدہ کے مطابق جون 2025 تک تقریباً 4.5 ارب ڈالر ہی موصول ہوئے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق 2026 میں مجموعی بارش معمول سے کم رہنے کی توقع ہے، لیکن یہاں کم بارش کا مطلب کم خطرہ نہیں ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث اب مسئلہ بارش کی مقدار نہیں بلکہ اس کا انداز بن چکا ہے۔

ایک ہی دن میں ہونے والی شدید بارش شہر ڈبو سکتی ہے، جبکہ شمالی علاقوں میں گلیشیئر پگھلنے سے اچانک سیلاب آ سکتا ہے۔