موٹر سائیکل کی رفتار تیز تھی، وقت مگر وقت کم تھا۔ اچانک ایک تیز دھار چیز اس کے گلے سے ٹکرائی۔ شدید جھٹکا لگا، سانس اکھڑنے لگی، بائیک بے قابو ہو کر زمین پر جا گری۔ آصف اٹھنے کی کوشش کرتا رہا مگر آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا چکا تھا۔

 یہ کسی گاڑی کی ٹکر نہیں تھی، یہ کسی حادثے کی غلطی بھی نہیں تھی، یہ قاتل ڈور تھی۔

اب پنجاب حکومت کی جانب سے شہر لاہور میں ایک بار پھر سے بسنت کی اجازت دے دی گئی ہے۔

 فضا میں رنگ برنگی پتنگوں کی واپسی کو ثقافت کی بحالی قرار دیا جا رہا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس بار یہ رنگ خوشی کے ہوں گے یا پھر کسی ماں کی گود اجڑنے کا سبب بنیں گے؟ 

ماضی گواہ ہے کہ بسنت کی خوشیاں اکثر چھتوں سے ہوتی ہوئی سڑکوں تک پہنچی، جہاں قاتل ڈور نے کئی زندگیاں نگل لیں اور بے شمار گھروں کو سوگ میں بدل دیا۔

حکومتِ پنجاب کا کہنا ہے کہ بسنت لاہور میں منائی جائے گی اور مرکزی تقریب شاہی قلعہ میں ہوگی۔ بظاہر یہ ایک منظم اور محدود انتظام دکھائی دیتا ہے، مگر عملی طور پر یہی پورا لاہور ایک خطرے کی زد میں آ جاتا ہے۔ شہر کی گلیاں، سڑکیں اور شاہراہیں ایک بار پھر اس تہوار کے ممکنہ نقصانات کی زد میں ہوں گی۔

حکومتی دعویٰ ہے کہ اس بار صرف ساڑھے چار گٹھی کی پتنگ، نو تاروں والی کوٹن ڈور اور ڈور کے مخصوص پنے کی اجازت ہوگی۔

 کیمیائی اور دھاتی ڈور پر مکمل پابندی عائد کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ مگر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ یہی قواعد ماضی میں بھی موجود تھے۔ فرق صرف وعدوں کا ہے، جن پر عملدرآمد ہمیشہ سوالیہ نشان بنا رہا۔

ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ جب عام دنوں میں غیر قانونی ڈور بازاروں تک پہنچ جاتی ہے تو بسنت جیسے تہوار، جہاں طلب کئی گنا بڑھ جاتی ہے، وہاں مکمل کنٹرول کیسے ممکن ہوگا؟ قانون کی کمزوری اور نگرانی کے فقدان نے ماضی میں بارہا قاتل ڈور کو انسانی جانوں سے کھیلنے کا موقع دیا ہے۔

پتنگ بازی بلاشبہ ایک دلکش منظر پیش کرتی ہے۔ نیلے آسمان میں بادلوں کے درمیان اڑتی رنگین پتنگیں ثقافتی روایت اور اجتماعی خوشی کی علامت سمجھی جاتی رہی ہے

 مگر اسی خوبصورتی کے پیچھے ایک تلخ اور خونی حقیقت چھپی ہوئی ہے۔ کیمیائی اور دھاتی ڈور صرف پتنگیں نہیں کاٹتیں، یہ انسان کی سانسوں کی ڈور بھی توڑ دیتی ہیں۔

 پاکستان بھر میں درجنوں افراد اس کا شکار بن چکے ہیں، کئی ہمیشہ کے لیے معذور ہوئے اور نہ جانے کتنے خاندان ناقابلِ تلافی صدمے سے دوچار ہوئے۔

انہی خدشات کے باعث ماضی میں پتنگ بازی پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ 

یہ پابندی کسی ثقافتی روایت کے خلاف نہیں تھی بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ایک ناگزیر فیصلہ تھا۔ مقصد یہی تھا کہ شہری سڑکوں اور گلیوں میں بلا خوف و خطر زندگی گزار سکیں۔

لاہور میں موجود تقریباً 48 لاکھ موٹر سائیکلوں کے تناظر میں شہریوں کو بسنت کے دن غیر ضروری سفر سے گریز کا مشورہ دینا ایک عارضی تسلی تو ہو سکتی ہے، مگر مستقل حل نہیں۔

 سیفٹی راڈ کے بغیر موٹر سائیکل سواروں کے خلاف کارروائی کے اعلانات اپنی جگہ، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ نفاذ ہر گلی اور ہر سڑک پر ممکن ہو سکے گا؟ جب عام دنوں میں ہیلمٹ کی پابندی مکمل طور پر نافذ نہیں ہو پاتی تو بسنت جیسے دنوں میں اس نظام پر کتنا بھروسہ کیا جا سکتا ہے؟

پولیس کی نفری بڑھانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے، مگر بسنت ایک دن کا نہیں بلکہ کئی دنوں پر محیط ایک جنون بن جاتی ہے۔ کیا پولیس ناکے، مساجد میں اعلانات اور وقتی نگرانی اس خونی کھیل کو قابو میں رکھ سکیں گے؟ یہ سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے۔

حکومت معاشی فوائد کا حوالہ دے رہی ہے، 500 رجسٹرڈ مینوفیکچررز اور ہزاروں سیلرز کی روزی روٹی کی بات کی جا رہی ہے۔ مگر اصل سوال اب بھی وہی ہے۔

کیا انسانی جانیں واقعی اولین ترجیح ہیں؟ اگر غیر قانونی ڈور، کمزور نگرانی اور نمائشی کارروائیاں جاری رہیں تو “محفوظ بسنت” محض ایک نعرہ ہی ثابت ہوگی۔

فیصلہ حکومت کر چکی ہے، مگر وقت ہی اس بات کی گواہی دے گا کہ اس بار بسنت واقعی خوشی کا تہوار بنتی ہے یا ایک بار پھر ریاستی انتظامات کی ناکامی انتظامیہ کے گلے کا طوق بن جاتی ہے۔ ماضی کے تلخ تجربات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا ہم نے کچھ سیکھا ہے؟ کیا قاتل ڈور کے مکمل خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات واقعی کر لیے گئے ہیں؟

بسنت کا تہوار تب ہی خوشیوں کی علامت بن سکتا ہے جب کسی ماں کا بیٹا، کسی بچے کا باپ اور کسی گھر کا چراغ محفوظ رہے۔ اگر خوشی کی قیمت انسانی جان ہو تو ایسے جشن پر سنجیدگی سے دوبارہ غور کرنا ہوگا۔ آج سوال صرف بسنت کا نہیں، سوال ترجیحات کا؟ روایت یا انسان کی زندگی کا ؟