آپ نے سوشل میڈیا پر گردش کرتی خبریں ضرور دیکھی ہوں گی کہ حکومتِ پنجاب ایئر پنجاب کے نام سے ایک نئی ایئر لائن لانچ کرنے جا رہی ہے۔
سن کر شاید آپ حیران بھی ہوئے ہوں گے اور سوچ میں بھی پڑ گئے ہوں گے کہ جب ایک طرف پاکستان انترنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کو اس دلیل کے ساتھ نجی شعبے کے حوالے کیا گیا کہ سرکاری ایئر لائن قومی خزانے پر بوجھ بن جاتی ہے تو دوسری طرف ایک صوبہ کیسے دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس کی ایئر لائن خزانے پر بوجھ نہیں بنے گی؟
کیا یہ واقعی ایک مکمل کمرشل ماڈل ہوگا؟ اس کے لیے سرمایہ کہاں سے آئے گا؟ رسک کون لے گا؟ اور اگر ابتدائی سال خسارے میں گئے تو ذمہ داری کس پر ہوگی؟
فروری2026 میں پنجاب حکومت کی طرف سے ایک ایسے منصوبے کی منظوری سامنے آئی جو پاکستان کی صوبائی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا قدم ہے۔ منصوبے میں کہا گیا تھا کہ ایئر پنجاب کے نام سے ایک صوبائی ایئر لائن قائم کی جائے گی جو ابتدائی طور پر چار سے سات طیاروں کے ساتھ اندرون ملک پروازیں شروع کرے گی اور دو سال بعد بین الاقوامی آپریشن کی طرف بڑھے گی۔ وزیراطلاعات عظمیٰ بخاری کے مطابق آٹھ ماہ سے ایک سال کے اندر پروازیں شروع ہونے کا ہدف ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ یہ ایئر لائن مکمل طور پر کمرشل بنیادوں پر چلے گی اور صوبائی خزانے پر کوئی بوجھ نہیں آئے گا۔ لیکن جب اس اعلان کو حقائق کی روشنی میں رکھا جائے تو کئی اہم سوالات سامنے آتے ہیں جن کے جوابات ابھی تک عوام کے سامنے نہیں رکھے گئے۔اعلان اور عمل کے درمیان ایک فاصلہ ہوتا ہے اور اسی فاصلے میں اصل سوال پیدا ہوتے ہیں۔
ایئر پنجاب کی کہانی سمجھنے کے لیے نومبر 2024 کی طرف جانا ضروری ہے۔ پی آئی اے کی نجکاری کے لیے بولی کا جو دن مقرر تھا، وہ ایک ناکامی کے ساتھ گزرا۔ صرف ایک گروپ نے بولی لگائی اور وہ بھی محض دس ارب روپے کی، جبکہ حکومت کی مقررہ کم از کم قیمت 85 ارب روپے تھی۔ اس ناکامی کے فوراً بعد نواز شریف نے نیویارک میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب میں بتایا کہ مریم نواز نے ان سے مشورہ کیا کہ پی آئی اے خود خرید کر اسے "ایئر پنجاب" کے نام سے از سر نو شروع کیا جائے۔ یعنی اس منصوبے کا بیج کسی طویل پالیسی غوروفکر میں نہیں بلکہ ایک مخصوص سیاسی لمحے میں پڑا۔ اس سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ منصوبہ غلط ہے، لیکن اس سے یہ ضرور سمجھ آتا ہے کہ اس کی بنیاد کیسے رکھی گئی۔ بعد ازاں پی آئی اے کی نجکاری دوسری بار عارف حبیب گروپ کی قیادت میں کنسورشیم کو مکمل ہوئی۔
،
حکومت کا دعویٰ ہے کہ ایئر پنجاب صوبائی خزانے پر بوجھ نہیں ڈالے گی۔ یہ دعویٰ اپنی جگہ قابلِ احترام ہے، لیکن اس کی تصدیق کے لیے جو دستاویزات ضروری ہیں، وہ ابھی تک عوامی نہیں ہوئیں۔ پنجاب کا 2024-25 کا بجٹ 4.643 ٹریلین روپے آمدنی اور 4.816 ٹریلین روپے اخراجات کے ساتھ پیش کیا گیا یعنی بجٹ خود ایک خسارے کی تصویر ہے۔ ایسے میں نئی ایئر لائن کے لیے طیاروں کی لیزنگ، انشورنس، عملے کی تنخواہیں، گراؤنڈ ہینڈلنگ، سول ایوی ایشن لائسنسنگ اور ٹیکنیکل مینٹیننس کا خرچ کہاں سے آئے گا، یہ ایک بنیادی سوال ہے۔ ابھی تک نہ کوئی فزیبلٹی رپورٹ عوام کے سامنے آئی، نہ سرمائے کا ذریعہ واضح کیا گیا، نہ بریک ایون مدت بتائی گئی۔ اگر یہ منصوبہ واقعی مضبوط کمرشل بنیادوں پر کھڑا ہے تو ان تفصیلات کا سامنے آنا عوامی اعتماد کے لیے ناگزیر ہے۔
عالمی سطح پر ہوا بازی کا شعبہ کم مارجن اور بلند خطرات کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ آئی اے ٹی اے کے اعداد و شمار کے مطابق ایک اوسط ایئر لائن فی مسافر محض چند ڈالر کا منافع کماتی ہے۔ نئی ایئر لائنز کے لیے پہلے تین سے پانچ سال نقصان کا دورانیہ ہوتا ہے کیونکہ برانڈ بنانے، روٹ قائم کرنے اور آپریشنل استحکام حاصل کرنے میں وقت لگتا ہے۔ اس کے علاوہ ایندھن کی قیمتیں، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور موسمی عوامل مسلسل مالی دباؤ پیدا کرتے ہیں۔ پاکستان میں ایئر بلیو اور سیرین ایئر جیسی نجی ایئر لائنز کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ یہاں مارکیٹ محدود ہے اور منافع بخشی آسان نہیں۔ ایسے میں ایک نئی سرکاری ایئر لائن کو ان تمام خطرات کا سامنا کرنا ہوگا اور سوال یہ ہے کہ کیا اس کے لیے تیاری کی گئی ہے۔
ایئر پنجاب کے پہلے اعلان شدہ روٹ کے طور پر لاہور تا اسلام آباد کا ذکر آیا ہے۔ یہ روٹ پہلے سے پی آئی اے اور ایئر بلیو کا میدان ہے اور موٹروے کی وجہ سے ہوائی سفر کا جو وقتی فائدہ ہونا چاہیے وہ یہاں بہت محدود ہے۔ دنیا میں کامیاب لو کاسٹ ایئر لائنز نے عام طور پر ایسے شہروں کو منتخب کیا جہاں زمینی رابطہ کمزور ہو یا جہاں ہوائی مسافر کی طلب زیادہ اور فراہمی کم ہو۔ گلگت، سکردو، چترال، ژوب یا تربت جیسے شہر جہاں ہوائی رابطہ واقعی ضروری ہے اور مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے، ان کے لیے سوچنا زیادہ منطقی ہوتا۔ لیکن پہلے مرحلے میں مصروف ترین اور سب سے زیادہ مسابقتی روٹ کا انتخاب کاروباری حکمتِ عملی کے لحاظ سے سوال اٹھاتا ہے۔
پاکستان کے پاس سرکاری ایئر لائن چلانے کا ستر سال کا تجربہ موجود ہے اور اس تجربے کا نچوڑ کڑوا ہے۔ پی آئی اے 1955 میں قائم ہوئی اور اپنے ابتدائی دو دہائیوں میں ایشیا کی معروف ایئر لائنز میں شمار ہوتی تھی۔ سنگاپور ایئر لائنز اور ایمریٹس تک نے اس سے تربیتی مدد لی تھی۔ لیکن آہستہ آہستہ سیاسی بھرتیاں، احتساب کا فقدان اور کمرشل نظم و نسق کی غیر موجودگی نے اسے تباہ کر دیا۔ نجکاری سے پہلے حکومت کو 654 ارب روپے کے قرضے ایئر لائن کی بیلنس شیٹ سے الگ کرنے پڑے، تب جا کر خریداروں نے دلچسپی ظاہر کی۔ ایئر لائن کی طویل المدتی ذمہ داریاں 2.3 ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھیں۔ یہ تاریخ کوئی لکیر نہیں جو دہرائی ہی جائے، لیکن یہ ایک سنجیدہ انتباہ ضرور ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: بنتِ حوا مارچ ، اس دن کو منانے کا مقصد کیا ہے؟
شاید سب سے اہم سوال یہ ہے کہ مرکزی اور صوبائی حکومت بیک وقت دو مختلف سمتوں میں کیوں جا رہی ہیں۔ وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ طے کردہ اصلاحات کے تحت پی آئی اے کو نجی شعبے کے حوالے کیا اور یہ دلیل دی کہ حکومت کا کام کاروبار چلانا نہیں بلکہ عوامی خدمات فراہم کرنا ہے۔ اسی اصول کی بنیاد پر پی آئی اے کی نجکاری کو دو دہائیوں کی بڑی پالیسی کامیابی قرار دیا گیا۔ لیکن اسی وقت پنجاب حکومت ایک نئی سرکاری ایئر لائن کھڑی کر رہی ہے۔ یہ تضاد نہ صرف پالیسی تسلسل پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو بھی ایک مبہم پیغام دیتا ہے کہ پاکستان میں نجکاری کی سمت واضح نہیں ہے۔
پنجاب ایک ایسا صوبہ ہے جہاں ابھی بھی بنیادی خدمات میں سنگین خامیاں موجود ہیں۔ پرائمری تعلیم میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی قلت ایک مستقل مسئلہ ہے۔ نواحی شہروں میں صاف پانی اور نکاسی آب کے نظام کی حالت ابھی بھی ابتدائی ضروریات پوری نہیں کر رہی۔ یہ ان ذمہ داریوں کا ذکر ہے جو آئینی طور پر صوبائی حکومت کے دائرہ کار میں آتی ہیں۔ ہوا بازی کا شعبہ مرکزی حکومت اور نجی شعبے کا میدان سمجھا جاتا ہے۔ ایک صوبائی حکومت کا اس میدان میں براہ راست اترنا ایک ایسا فیصلہ ہے جس کی توجیہ تفصیلی اقتصادی جواز کے بغیر نامکمل رہتی ہے۔
کوئی بھی بڑا سرکاری منصوبہ اعلان سے نہیں، شفافیت سے مضبوط ہوتا ہے۔ ایئر پنجاب کے حوالے سے ابھی تک جو سوالات جواب طلب ہیں ان میں سرفہرست یہ ہے کہ ابتدائی سرمایہ کہاں سے آئے گا اور کتنا ہوگا۔ یہ ایئر لائن کس قانونی حیثیت کے تحت قائم ہوگی، یعنی سرکاری ادارہ، پبلک لمیٹڈ کمپنی یا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ۔ اگر پہلے چند سال آپریشنل خسارہ ہوا تو اسے کیسے برداشت کیا جائے گا۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی سے ائیر آپریٹر سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا عمل کہاں تک پہنچا ہے۔ یہ سوالات حکومت مخالفت کے لیے نہیں بلکہ اس لیے ضروری ہیں کہ اگر یہ منصوبہ ناکام ہوا تو نقصان کسی وزیر کو نہیں، عوام کو اٹھانا پڑے گا۔
ایئر پنجاب کا خیال اپنی جگہ قابلِ غور ہو سکتا ہے۔ اگر یہ منصوبہ کسی مضبوط پبلک پرائیویٹ ماڈل کے تحت، آزاد بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ساتھ، مکمل فزیبلٹی رپورٹ کی روشنی میں اور واضح رسک مینجمنٹ فریم ورک کے ساتھ آتا تو اسے ایک جرات مندانہ پالیسی تجربہ کہا جا سکتا تھا۔ دنیا میں ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں علاقائی ایئر لائنز نے کامیاب آپریشن چلائے ہیں۔ لیکن کامیابی کی بنیاد شفافیت، پیشہ ورانہ انتظام اور سیاسی مداخلت سے آزادی پر ہوتی ہے۔
فی الحال جو تصویر سامنے ہے وہ یہ ہے کہ ایک بڑا اعلان کیا گیا ہے، ایک اہم سوال چھوڑ دیا گیا ہے اور توقع یہ ہے کہ عوام اعلان پر اعتماد کریں، تفصیل مانگے بغیر۔ پاکستان کی معاشی تاریخ میں اس نوعیت کے کئی منصوبے آئے اور ان کا انجام ہم سب نے دیکھا ہے۔ ایئر پنجاب کو مختلف ہونا ہے تو اسے صرف اعلانات سے نہیں، ٹھوس حقائق اور شفاف دستاویزات سے ثابت کرنا ہوگا۔
ایئر لائن بنانا صرف جہاز خریدنے کا نام نہیں ہوتا۔ یہ پالیسی، معیشت، گورننس اور طویل المدتی حکمتِ عملی کا امتحان ہوتا ہے۔
جب ایک قومی ایئر لائن کو بوجھ قرار دے کر نجی شعبے کے حوالے کیا جاتا ہے اور اسی فضا میں ایک نئی صوبائی ایئر لائن کا اعلان ہوتا ہے تو سوال صرف ایئر پنجاب کا نہیں رہتا بلکہ سوال سوچ کا ہو جاتا ہے۔
کیا یہ واقعی معاشی خودمختاری کی طرف قدم ہے؟ یا سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا ایک نیا تجربہ؟ اور سب سے اہم سوال اگر یہ خواب حقیقت نہ بن سکاتو اس کی قیمت کون ادا کرے گا؟ خزانہ؟ یا عام شہری؟ کیا ہم واقعی ایک نئی پرواز کے لیے تیار ہیں یا ابھی بھی پچھلی پرواز کا حساب باقی ہے؟ یہ فیصلہ فضاؤں میں ہوگا مگر اس کے اثرات زمین پر محسوس ہوں گے۔







