خاص طور پر جنوبی ایشیائی کمیونٹی میں "گلاس سکن" اور گورے رنگ کے غیر فطری معیارات نے احساسِ کمتری کو جنم دیا ہے، جس کی وجہ سے نوجوان اپنی جان خطرے میں ڈال کر مہنگے کاسمیٹک علاج اور انجیکشنز کا سہارا لے رہے ہیں ۔

یہ دکھاوا نہ صرف انسان کی اپنی پہچان بلکہ اس کے حقیقی رشتوں کو بھی کھوکھلا کر رہا ہے ۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق بھی انسان کی اصل قدر اس کی ظاہری شکل و صورت میں نہیں بلکہ تقویٰ اور خلوصِ دل میں ہے ۔

 وقت کی اہم ضرورت یہ ہے کہ ہم دوسروں کی نقل کرنے کے بجائے اپنی اصلیت (Authenticity) کو قبول کریں ۔ اپنی جسمانی و ذہنی صحت اور حقیقی خوشی کو اپنا اصل "Aesthetic" بنائیں اور فلٹرز کی دنیا سے نکل کر اپنی اصل زندگی کو بھرپور طریقے سے جئیں۔ مزید دیکھیے اس ویڈیو میں