<iframe width="560" height="500" src="https://www.youtube.com/embed/EhrtVbkWY_o?si=A8CsDRSYYH4_flpv" title="YouTube video player" frameborder="0" allow="accelerometer; autoplay; clipboard-write; encrypted-media; gyroscope; picture-in-picture; web-share" referrerpolicy="strict-origin-when-cross-origin" allowfullscreen></iframe>
آج کے دور میں "Aesthetic" کا جنون محض ایک فیشن نہیں بلکہ ایک نفسیاتی اور معاشی جال بن چکا ہے جس نے نوجوان نسل کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔ اس رجحان کا آغاز 2010 کی دہائی میں Tumblr سے ہوا، جسے بعد میں TikTok اور K-Pop اسٹارز نے عالمی سطح پر مقبول بنا دیا ۔ اب لوگ اپنی پسند کی چیزیں نہیں بلکہ ایک مخصوص "وائب" خریدتے ہیں، جو کہ مالی طور پر بوجھ بننے کے ساتھ ساتھ شدید ذہنی دباؤ اور بے چینی کا باعث بن رہا ہے ۔
خاص طور پر جنوبی ایشیائی کمیونٹی میں "گلاس سکن" اور گورے رنگ کے غیر فطری معیارات نے احساسِ کمتری کو جنم دیا ہے، جس کی وجہ سے نوجوان اپنی جان خطرے میں ڈال کر مہنگے کاسمیٹک علاج اور انجیکشنز کا سہارا لے رہے ہیں ۔
یہ دکھاوا نہ صرف انسان کی اپنی پہچان بلکہ اس کے حقیقی رشتوں کو بھی کھوکھلا کر رہا ہے ۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق بھی انسان کی اصل قدر اس کی ظاہری شکل و صورت میں نہیں بلکہ تقویٰ اور خلوصِ دل میں ہے ۔
وقت کی اہم ضرورت یہ ہے کہ ہم دوسروں کی نقل کرنے کے بجائے اپنی اصلیت (Authenticity) کو قبول کریں ۔ اپنی جسمانی و ذہنی صحت اور حقیقی خوشی کو اپنا اصل "Aesthetic" بنائیں اور فلٹرز کی دنیا سے نکل کر اپنی اصل زندگی کو بھرپور طریقے سے جئیں۔ مزید دیکھیے اس ویڈیو میں