پاکستان میٹرز کے اس پوڈکاسٹ میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صحافی بایزید خان فروٹی نے صوبے کی مجموعی صورتحال کو ریاستی غفلت اور انتظامی ناکامیوں کا نتیجہ قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں صحت اور تعلیم جیسے بنیادی شعبے زبوں حالی کا شکار ہیں، مگر اس کے باوجود وفاقی سطح پر اس بحران کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔
بایزید خان خروٹی نے کہا کہ وفاق یا تو دیگر سیاسی معاملات میں الجھا ہوا ہے یا پھر بیوروکریسی کی جانب سے دی جانے والی رپورٹس حقائق کی صحیح عکاسی نہیں کرتیں۔ بلوچستان میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ محض ایک صوبے کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کی سلامتی اور بقا سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔
انہوں نے اس تاثر کو بھی چیلنج کیا کہ بلوچستان کے مسائل کو لسانی یا نسلی تناظر میں دیکھا جائے، اصل مسئلہ بلوچ، پختون یا پنجابی نہیں بلکہ انتظامی ناکامی ہے۔ اگر صوبے میں پولیس، انتظامیہ اور دیگر ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے تو ان کا احتساب ہونا چاہیے، چاہے وہ کسی بھی پس منظر سے تعلق رکھتے ہوں۔
بایزید خان فروٹی نے کہا کہ ریاست کو صرف بندوق اٹھانے والوں سے ہی نہیں بلکہ ان عناصر سے بھی نمٹنا ہوگا جو اختیارات اور قلم کے ذریعے نظام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
بلوچستان میں بدامنی کی اصل وجہ کیا ہے، دہشتگردی کو کون سپانسر کررہا ہے اور کون ہے جو پاکستان کو ٹوٹتا دیکھنا چاہتا ہے؟ ان سوالوں کے جوابات جاننے کے لیے ویڈیو کو مکمل دیکھیں۔







