ان کے مطابق جب امریکہ افغانستان سے واپس گیا تو بگرام ایئر بیس کی جیل سے وہ متعدد قیدی رہا ہو گئے جو پاکستان کو انتہائی مطلوب تھے۔ یہ افراد پہلے امریکہ نے گرفتار کر کے قید کیے تھے، لیکن طالبان حکومت کے قیام کے بعد نہ صرف ٹی ٹی پی کے ارکان بلکہ داعش سے وابستہ افراد بھی رہا ہو گئے۔ بعد ازاں داعش خود افغان طالبان کے لیے بھی ایک چیلنج بن گئی۔

محمود جان بابر کا کہنا تھا کہ اصل اور سب سے بڑا مسئلہ وہ عناصر ہیں جو پاکستان کو مطلوب ہیں اور افغانستان میں موجود ہیں۔ اگر پاکستان یہ توقع کرے کہ وہ افغانستان میں رہ کر خاموش رہیں اور پاکستان میں کارروائیاں نہ کریں تو وہ اس پر آمادہ نہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ جس جدوجہد کو وہ افغانستان میں شریعت کے نام پر کامیاب سمجھتے ہیں، وہی نظام پاکستان میں بھی نافذ کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغان طالبان نے عالمی برادری سے متعدد وعدے کیے تھے، لیکن عملی طور پر ان کے قریبی اتحادی وہ گروہ ہیں جو مختلف ممالک کو مطلوب ہیں، اور یہی صورت حال آج کی کشیدگی اور سکیورٹی بحران کی بنیادی وجہ بن رہی ہے۔

اس آپریشن کے کیا نتائج ہوں گے؟ دیکھیے اس ویڈیو میں