ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں نے رواں سال اب تک مجموعی طور پر 40 ہزار 348 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے، جن کے نتیجے میں بڑی تعداد میں تصدیق شدہ دہشت گرد ہلاک کیے گئے اور ان کے نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ رواں سال اب تک دہشت گردی کے باعث مجموعی طور پر 819 پاکستانی شہید ہوئے، جن میں پاک فوج کے 303 جوان، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 194 اہلکار جبکہ 322 عام شہری شامل ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اس عرصے کے دوران ملک بھر میں دہشت گردی کے 3 ہزار 145 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں ایک ہزار 971 خیبرپختونخوا، ایک ہزار 148 بلوچستان جبکہ 26 واقعات ملک کے دیگر حصوں میں پیش آئے۔
انہوں نے دہشت گردی کے اعداد و شمار کا گزشتہ سال سے تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 2025 میں مجموعی طور پر 2 ہزار 597 دہشت گرد مارے گئے تھے، جبکہ رواں سال ابھی تقریباً نصف عرصہ گزرنے کے باوجود اب تک 2 ہزار 84 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں، جو دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور ملک کے امن و استحکام کے لیے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز پوری قوت سے جاری رہیں گے، جبکہ دہشت گردی کی سرپرستی اور سہولت کاری کرنے والے عناصر کے خلاف بھی کارروائیاں مزید مؤثر بنائی جا رہی ہیں۔
سہولت کاری
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ گزشتہ برسوں کے اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں زیادہ مؤثر ہوئی ہیں، 2023 میں شہداء کی تعداد اور تناسب زیادہ تھا، تاہم اب دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ سوال بجا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ کیوں دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف دباؤ اور آپریشنز میں شدت پیدا کی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق جب دہشت گردوں کی براہِ راست حکمت عملی ناکام ہوئی تو انہوں نے افغانستان میں طالبان کے زیرِ انتظام علاقوں سے اپنی سرگرمیوں اور معاونت کا دائرہ بڑھا لیا۔
سردارانہ نظام، اسمگلنگ اور دہشتگردی کا گٹھ جوڑ بلوچستان کی ترقی میں رکاوٹ
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بلوچستان میں بعض بااثر عناصر کی اصل پریشانی یہ ہے کہ ریاست اب ماضی کی طرح انہیں خصوصی رعایت یا خوشامد نہیں دے رہی، یہ عناصر چاہتے ہیں کہ ریاست دوبارہ پرانے طریقہ کار پر واپس آئے، ان سے مذاکرات کرے اور ان کے مفادات کا تحفظ کرے۔
دد اہلکار ان کی ذاتی حفاظت اور مفادات کے لیے تعینات رہتے تھے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بعض عناصر نے تجارت کی آڑ میں اسمگلنگ، منشیات اور غیر قانونی ڈیزل کے کاروبار سے بھی فائدہ اٹھایا۔ جب ریاست نے ان سرگرمیوں کے خلاف کارروائیاں شروع کیں تو انہی عناصر نے دہشت گردی اور بدامنی کو ہوا دینے کی کوشش کی اور یہ تاثر دینا شروع کر دیا کہ بلوچستان ریاست کے کنٹرول سے نکل رہا ہے تاکہ دوبارہ انہیں مراعات اور وسائل میں حصہ دیا جائے۔







