خاندانی ذرائع کے مطابق استاد عبداللہ طویل عرصے سے پھیپھڑوں اور دمے کے مرض میں مبتلا تھے۔ ان کی نمازِ جنازہ آج کوٹری میں ادا کی جائے گی، جب کہ تدفین آبائی قبرستان سید بڈھل شاہ میں کی جائے گی۔
استاد عبداللہ کا شمار برصغیر کے اُن چند عظیم فنکاروں میں ہوتا تھا جنہوں نے شہنائی کو عالمی سطح پر ایک منفرد مقام دلایا۔
پاکستان، انڈیا اور بنگلادیش میں ان کے فن کو غیر معمولی پذیرائی حاصل رہی۔ انہوں نے کئی دہائیوں تک قومی و بین الاقوامی ثقافتی میلوں میں اپنی شہنائی کی دُھنوں سے سامعین کو مسحور کیے رکھا۔
سندھی موسیقی کو نیا انداز دینے اور شہنائی کے فن کو نئی نسل تک منتقل کرنے میں بھی استاد عبداللہ کا اہم کردار رہا، جس پر انہیں صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا۔







