صہیب مقصود نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس (سابق ٹوئٹر) پر پوسٹ کرتے ہوئے بتایا کہ ملتان میں ایک کار شوروم کا مالک، جس کا نام فہد ہے، نے گاڑی کی فروخت کے معاملے میں ان کے ساتھ دھوکا کیا۔

ان کے مطابق ان کی گاڑی، جس کی مالیت تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ روپے تھی، شوروم مالک نے ان کی اجازت کے بغیر فروخت کر دی، جب کہ گاڑی کے اصل کاغذات اب بھی صہیب مقصود کے پاس موجود ہیں۔

کرکٹر نے مزید بتایا کہ ملزم نے انہیں بدلے میں ایک دوسری گاڑی دی جس کے دستاویزات جعلی نکلے اور ساتھ ہی ان سے 70 لاکھ روپے بھی ہتھیا لیے۔

صہیب مقصود کے مطابق آٹھ ماہ بعد انہیں اپنی گمشدہ گاڑی لاہور کے ایک گھر میں ملی، لیکن جب انہوں نے اسے واپس لینے کی کوشش کی تو وہاں موجود شخص نے دعویٰ کیا کہ اس نے گاڑی خریدی ہےاور یہاں تک کہا کہ پولیس بھی اسے واپس نہیں لے سکتی۔

کرکٹر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک قومی کھلاڑی کے ساتھ ایسا فراڈ ہو سکتا ہے تو عام شہری کس حد تک غیر محفوظ ہوں گے۔

صہیب مقصود نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز، پنجاب پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرائیں اور ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔

دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین نے صہیب مقصود سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔