علیزے خان نے اپنی ایک مختصر ویڈیو میں بچوں کی پرورش کرنے والی تنہا ماؤں کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج کے زمانے میں بھی بچوں کی تمام تر ذمہ داری والدہ پر ہی آتی ہے، وہی بچوں کو اسکول چھوڑتی اور وہاں سے لاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بچوں کے اسکول سے لے کر صحت کے تمام معاملات والدہ دیکھتی ہیں، بچوں کی پوری ذمہ داری انہی پر ہوتی ہے جب کہ والد اکثراس کام سے جان چھڑا جاتے ہیں۔
علیزہ سلطان نے اپنی مشکلات کا ذکر کیے بغیر کہا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے، والد کو بھی اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔
ان کے مطابق اگر بچوں کے والدین الگ الگ ہوں تب بھی بچوں کو لے جانا اور واپس لانا والدہ کی ذمہ داری بن جاتی ہے، جب کہ والد کو بھی اس میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ صرف پیسے دینے یا پیسوں سے سب کچھ نہیں ہوتا، والد کو بھی بچوں کے معاملات میں دلچسپی لینی چاہیے اور اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہییں۔
علیزہ سلطان کے مطابق پیسہ ضرور کام آتا ہے لیکن یہ والدین کی ذمہ داریوں کا متبادل نہیں ہو سکتا، ہر کسی کو اپنے حصے کا کام خود کرنا چاہیے۔
انہوں نے اپنی ویڈیو میں نہ اپنی ذاتی مشکلات کا ذکر کیا اور نہ ہی سابق شوہر کا نام لیا، تاہم طلاق یافتہ ماؤں کی مشکلات پر بات کی۔
علیزہ سلطان ماضی میں بھی بچوں کی پرورش کی دشواریوں سے متعلق ویڈیوز اور سوشل میڈیا پوسٹس شیئر کرتی رہی ہیں، تاہم وہ عام طور پر اپنے سابق شوہر کا نام نہیں لیتیں۔
علیزہ سلطان اپنے بیٹے اور بیٹی کی پرورش کر رہی ہیں، جب کہ سابق شوہر فیروز خان عدالتی حکم کے تحت بچوں کی کفالت کے لیے معاوضہ ادا کرتے ہیں۔
علیزہ سلطان اور فیروز خان 2018 میں رشتۂ ازدواج میں بندھے تھے اور 2022 میں ان کی طلاق ہوگئی۔ دونوں کے دو بچے ہیں، ایک بیٹا اور ایک بیٹی، جن کی پرورش دونوں مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔
فیروز خان نے 2024 میں دوسری شادی کی تھی، جب کہ علیزہ سلطان نے تاحال دوسری شادی نہیں کی۔ انہوں نے ماضی میں فیروز خان پر گھریلو تشدد کے الزامات بھی عائد کیے تھے اور دونوں کے درمیان بچوں کی حوالگی و کفالت کے مقدمات طویل عرصے سے عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔





