ہر قسم کی مکئی سے پاپ کارن نہیں بنائے جا سکتے۔ اس کے لیے مکئی کی ایک خاص قسم استعمال ہوتی ہے جسے ”زیا میز ایورٹا“ کہا جاتا ہے۔
اس قسم کے دانے کی بیرونی تہہ بہت مضبوط اور پانی نہ گزرنے والی ہوتی ہے، جبکہ اس کے اندر نشاستہ اور تھوڑی مقدار میں پانی موجود ہوتا ہے۔ یہی خصوصیات اسے حرارت ملنے پر پھٹنے کے قابل بناتی ہیں۔
غذائی سائنس کے مطابق پاپ کارن کا دانہ باہر سے خشک دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے اندر تقریباً 13 سے 15 فیصد تک نمی موجود ہوتی ہے۔ جب اس دانے کو گرم کیا جاتا ہے تو اس کے اندر موجود پانی آہستہ آہستہ بھاپ میں تبدیل ہونے لگتا ہےچونکہ دانے کا باہر والا چھلکا بہت مضبوط ہوتا ہے، اس لیے بھاپ باہر نہیں نکل پاتی اور دانے کے اندر مسلسل دباؤ بڑھتا رہتا ہے۔
دانے کے اندر کا دباؤ اتنا زیادہ ہو جاتا ہے کہ وہ کسی چھوٹے پریشر ککر کی طرح کام کرنے لگتا ہے۔ جب یہ دباؤ برداشت سے باہر ہو جاتا ہے تو چھلکا اچانک پٹاخے کی آواز کے ساتھ پھٹ جاتا ہے۔
چھلکا پھٹتے ہی اندر کی تیز گرم بھاپ تیزی سے باہر نکلتی ہے اور اس کے ساتھ ہی اندر کا نرم اور گرم نشاستہ باہر کی طرف پھیل جاتا ہے۔ چند سیکنڈ میں یہ نشاستہ ٹھنڈا ہو کر جم جاتا ہے اور ہمیں ایک پھولا ہوا خستہ پاپ کارن مل جاتا ہے۔ پھولنے کے بعد یہ دانہ اپنے اصل سائز سے 30 سے 40 گنا زیادہ بڑا ہو جاتا ہے۔
اکثر پاپ کارن بناتے وقت برتن کے نیچے کچھ دانے پھٹتے ہی نہیں ہیں۔ فوڈ سائنس کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ دانے کے اندر نمی کا کم ہونا ہے، جس کے باعث اتنی بھاپ پیدا نہیں ہو پاتی کہ مطلوبہ دباؤ بن سکے۔
اس کے علاوہ اگر دانے کی بیرونی تہہ میں باریک دراڑ یا سوراخ موجود ہو تو بھاپ پہلے ہی خارج ہو جاتی ہے، جس سے دانہ نہیں پھٹتا۔ کم درجہ حرارت بھی اس کی ایک وجہ بن سکتا ہے کیونکہ ایسی صورت میں دانہ مطلوبہ حد تک گرم ہونے سے پہلے ہی خشک ہو جاتا ہے۔
پاپ کارن بنانے کے مختلف طریقے ہوتے ہیں، جیسے دیگچی میں، گرم ہوا کے ذریعے یا مائیکرو ویو اوون میں۔ مائیکرو ویو پاپ کارن میں استعمال ہونے والا بیگ اور اس میں موجود تیل مائیکرو ویو کی حرارت کو یکساں طور پر تقسیم کرتے ہیں، جس سے تمام دانے بہتر طریقے سے گرم ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق چولہے پر پاپ کارن بناتے وقت تیل حرارت کو یکساں طور پر دانوں تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے، جبکہ ایئر پاپر میں صرف گرم ہوا کے ذریعے دانوں کو گرم کیا جاتا ہے اور اس میں تیل استعمال نہیں کیا جاتا۔
ماہرین غذائیت کا کہنا ہے کہ طریقہ کوئی بھی ہو، پاپ کارن کے پھٹنے کے پیچھے اصل راز اس کے دانے کی منفرد ساخت، مناسب نمی، بھاپ کے دباؤ اور نشاستے میں ہونے والی قدرتی تبدیلی ہے۔







