یہ اعداد و شمار غیر سرکاری تنظیم ساحل کی تازہ ششماہی رپورٹ سے لیے گئے ہیں، جس کی ایک کاپی پاکستان میٹرز کو بھی فراہم کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنوری سے جون 2026 کے دوران ملک بھر میں صنفی بنیادوں پر تشدد کے مجموعی طور پر 3,172 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن میں خواجہ سراؤں کے خلاف تشدد کے 18 واقعات بھی شامل ہیں۔ ان اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں اوسطاً ہر روز 17 سے زائد خواتین اور خواجہ سرا کسی نہ کسی نوعیت کے تشدد کا شکار ہوئے۔

گزشتہ برس کے مقابلے میں صورتحال

رپورٹ کے مطابق سنہ 2025 کے پورے سال کے دوران صنفی بنیادوں پر تشدد کے مجموعی طور پر 3,958 واقعات رپورٹ ہوئے تھے، جبکہ رواں برس صرف پہلے چھ ماہ میں ہی 3,172 کیسز ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 54 فیصد واقعات، یعنی 1,725 کیسز، متاثرہ افراد کی اپنی رہائش گاہوں میں پیش آئے، جبکہ 12 فیصد واقعات ملزم کی رہائش گاہ پر رپورٹ ہوئے۔

ملزمان کی شناخت سے متعلق دستیاب معلومات کے مطابق 27 فیصد واقعات میں مبینہ ملزم متاثرہ فرد کا جاننے والا شخص تھا، 24 فیصد میں اجنبی، جبکہ 13 فیصد کیسز میں شوہر کو مبینہ ملزم قرار دیا گیا۔ تقریباً 20 فیصد واقعات میں ملزم کی شناخت رپورٹ نہیں کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق زیرِ جائزہ عرصے میں 644 خواتین کے قتل، 514 خواتین پر جسمانی تشدد، 462 اغوا، 363 خودکشی، 280 زیادتی، 175 زخمی ہونے، 132 غیرت کے نام پر قتل اور دیگر جرائم کے 21 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں ہراسانی، اجتماعی زیادتی اور فحش مواد سے متعلق کیسز بھی شامل ہیں۔

پنجاب سے سب سے زیادہ کیسز

صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق ملک بھر کے مجموعی کیسز میں سے 74 فیصد پنجاب اور 17 فیصد سندھ سے رپورٹ ہوئے۔ اس کے علاوہ چھ فیصد کیسز خیبر پختونخوا، جبکہ بلوچستان، اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے مجموعی طور پر تین فیصد واقعات رپورٹ ہوئے۔

104 اضلاع کے تجزیے کے مطابق فیصل آباد 532 کیسز کے ساتھ سب سے زیادہ متاثرہ ضلع رہا، جبکہ ملتان، لاہور، گوجرانوالہ، قصور، رحیم یار خان، راولپنڈی، کراچی، وہاڑی اور سیالکوٹ بھی زیادہ کیسز رپورٹ کرنے والے اضلاع میں شامل رہے۔

رپورٹ کے مطابق جن کیسز میں متاثرہ افراد کی عمر درج کی گئی، ان میں 21 سے 30 سال کی عمر کے 334 افراد، 11 سے 20 سال کے 306 افراد اور 31 سے 40 سال کی عمر کے 120 افراد شامل تھے۔ تاہم مجموعی طور پر 71 فیصد کیسز میں متاثرہ افراد کی عمر کا ذکر ہی نہیں کیا گیا۔

قانونی کارروائی کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 76 فیصد واقعات میں ایف آئی آر درج کی گئی، جبکہ 23 فیصد کیسز میں ایف آئی آر کے اندراج کی صورتحال کا ذکر نہیں کیا گیا۔ ایک فیصد واقعات ایسے تھے جن میں مقدمہ درج نہیں ہوا۔