فزیوتھراپی کے ماہرین کے مطابق اکثر لوگ تکیہ خریدتے وقت صرف اس کی نرمی اور فوری آرام کو دیکھتے ہیں، حالانکہ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ وہ پوری رات سر اور گردن کو مناسب سہارا فراہم کرتا ہے یا نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تکیہ سر کے وزن کے باعث دب جاتا ہے اور اپنی ساخت برقرار نہیں رکھ پاتا تو گردن اور ریڑھ کی ہڈی کی سیدھ متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں صبح اٹھتے وقت گردن میں درد، اکڑاؤ یا بے آرامی محسوس ہو سکتی ہے۔

سڈنی یونیورسٹی کے لیکچرر اور فزیوتھراپسٹ ایلان فو کے مطابق کسی تکیے کو صرف چند سیکنڈ یا چند منٹ آزما کر اس کے معیار کا درست اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ ان کے بقول اصل امتحان یہ ہے کہ تکیہ کئی گھنٹوں تک استعمال کے دوران سر کو کس حد تک سہارا دیتا ہے۔

ماہرین کے مطابق انسانی سر کا اوسط وزن تقریباً ساڑھے چار کلوگرام ہوتا ہے، جس کی وجہ سے تکیہ رات بھر دباؤ برداشت کرتا ہے۔ اگر تکیہ بہت زیادہ نرم ہو تو وہ سر اور گردن کو مناسب سپورٹ نہیں دے پاتا، جس سے گردن پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔

تحقیقی جائزوں کے مطابق لیٹیکس اور میموری فوم سے بنے تکیے گردن کے درد میں نسبتاً زیادہ مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہ اپنی ساخت بہتر انداز میں برقرار رکھتے ہیں اور سر کو متوازن سہارا فراہم کرتے ہیں۔ اس کے برعکس پروں یا مصنوعی ریشوں سے بنے تکیے بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں، تاہم ان کی نسبتاً مضبوط اقسام زیادہ موزوں سمجھی جاتی ہیں کیونکہ بہت نرم تکیے جلد اپنی مضبوطی کھو دیتے ہیں۔

ماہرین نے یہ بھی کہا کہ نئے تکیے کے بارے میں پہلی ہی رات فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق پروں اور مصنوعی ریشوں والے تکیے ایک یا دو راتوں میں اپنی اصل شکل اختیار کر لیتے ہیں، جبکہ میموری فوم کے تکیے جسم کی حرارت اور سر کی ساخت کے مطابق مکمل طور پر ڈھلنے میں چند ہفتے بھی لے سکتے ہیں۔

ماہرین کا مشورہ ہے کہ تکیہ خریدتے وقت اگر ممکن ہو تو اس پر چند منٹ لیٹ کر ضرور دیکھیں اور ایسا تکیہ منتخب کریں جو ابتدا میں قدرے مضبوط یا نسبتاً اونچا محسوس ہو، کیونکہ مسلسل استعمال کے ساتھ وہ قدرتی طور پر کچھ نرم ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق گردن کی صحت کے لیے صرف آرام دہ محسوس ہونا کافی نہیں بلکہ سر اور گردن کو مناسب سہارا ملنا زیادہ ضروری ہے۔