نجی اخبار ایکسپریس ٹریبیون کو دیے گئے انٹرویو میں ساحر علی بگا نے گانے کے میوزیکل خیال، صائمہ نور کو کاسٹ کرنے کی وجہ اور پاکستانی لوک موسیقی کو مرکزی دھارے میں لانے کے اپنے دیرینہ مشن پر اظہارِ خیال کیا۔
ساحر علی بگا کے مطابق مستانی ان کے اس دستخطی انداز کو آگے بڑھاتا ہے جس میں وہ جدید پروڈکشن کو پاکستانی لوک موسیقی کی جڑوں کے ساتھ ملاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ جب بھی کوئی کمرشل گانا بناتے ہیں تو اس میں لوک موسیقی کا عنصر ضرور شامل کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لوک موسیقی 40 یا 50 سال سے زیادہ عمر کے سامعین کو فوراً اپنی طرف کھینچ لی ہے اور جب اسے جدید دھنوں سے ملایا جاتا ہے تو دونوں نسلیں ایک ساتھ جڑ جاتی ہیں۔ اس طرح جنریشن گیپ ختم ہوتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ بین النسلی امتزاج صرف آواز میں نہیں بلکہ ویڈیو میں بھی موجود ہے۔
میں نے صائمہ نور اور ثانیہ اقبال کو ایک ساتھ اسی لیے کاسٹ کیا کہ ان دونوں کے درمیان پوری ایک نسل کا فاصلہ ہے۔
صائمہ نور کے میوزک ویڈیو میں پہلی بار نظر آنے نے مداحوں میں خاصی دلچسپی پیدا کی ہے۔
ساحر علی بگا نے تصدیق کی کہ یہ پہلا موقع ہے کہ صائمہ نور کسی گانے میں نظر آرہی ہیں۔ میں بصری طور پر بھی ثقافتی جوہر کے ساتھ تجربہ کرنا چاہتا تھا۔
ساحر علی بگا نے کہا کہ وہ برسوں سے ایسے گانے بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جو پاکستانی شادیوں کی روایات سے مطابقت رکھتے ہیں اور جنہیں شادیوں میں انڈین گانوں کے بجائے چلایا جا سکے۔
انہوں نے واضح طور پر کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ہماری شادیوں میں پاکستانی گانے چلیں، انڈین نہیں، ہمارے لوگ اپنی موسیقی پر رقص کریں۔
پاکستانی موسیقی کے بدلتے منظرنامے پر بات کرتے ہوئے بگا نے کہا کہ وقت کے ساتھ صرف ٹیکنالوجی بدلتی ہے، ورثہ نہیں۔ٹیکنالوجی موسیقی کی آواز بدل دیتی ہے، لیکن ہمارا لوک، ہمارا کلچر اور ہماری شناخت کبھی نہیں بدل سکتی۔ پنجابی پنجابی رہے گی، اردو اردو رہے گی۔ انہیں ملایا جا سکتا ہے مٹایا نہیں جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ مغربی اثرات وقتی ہوتے ہیں، مغربی نقالی کچھ عرصے تک چلتی ہے، اصل موسیقی وہی ہے جو ثقافت سے جڑی ہو۔ یہی ہمیشہ قائم رہتی ہے۔
موسیقی کے مقابلوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تیز گانا یا ریپ کرنا مہارت نہیں۔ کلاسیکل گایا جاتا ہے تاکہ جج گلوکار کی اصل قابلیت سمجھ سکیں۔
ساحر علی بگا کے مطابق پاکستانی موسیقی کا ایک بڑا مسئلہ انفرادی اور مضبوط آواز کی شناخت کی کمی ہے۔لوگ اچھا گاتے ہیں مگر منفرد آواز کم ہے۔ ہیرو کی آواز ہیرو جیسی ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ موسیقی صرف تکنیک نہیں بلکہ احساس، سُر اور خوبصورتی کا ملاپ ہے۔کلاسیکل اپنی جگہ، لیکن موسیقی کانوں کو اچھی لگنی چاہیے، صرف رفتار سے متاثر کرنا کافی نہیں۔
میوزک ٹرینڈز پر بات کرتے ہوئے انہوں نے فواد خان کی مثال دی ایک وقت تھا فواد خان ریپ بینڈ میں تھے۔ وہ دور ختم ہوا اور وہ اداکاری کی طرف چلے گئے۔ اگر وہ موسیقی میں رہتے تو انہیں آخرکار پاکستانی موسیقی ہی کرنی پڑتی، کیونکہ ہم سب اپنی جڑوں کی طرف ہی لوٹتے ہیں۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ میری موسیقی ہر عمر کے لیے ہے۔ میرا چار سالہ بیٹا بھی سنتا ہے اور 90 سال کا بزرگ بھی۔ میری موسیقی ہر نسل کے لیے ہے، یہ پاکستان کے لیے ہے۔







