طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مون سون کے دوران فنگل انفیکشن سب سے زیادہ عام مسئلہ ہے، جو جسم کے نم رہنے، گیلے کپڑے پہننے یا مناسب ہوا نہ لگنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس کی علامات میں سرخ دھبے اور شدید خارش شامل ہیں، جو عموماً کمر، کولہوں اور جسم کے دیگر حصوں پر ظاہر ہوتے ہیں۔ ماہرین جلد کو خشک رکھنے اور ضرورت پڑنے پر اینٹی فنگل کریم یا پاؤڈر استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
بارشوں کے موسم میں جلدی الرجی کے مسائل بھی بڑھ جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق حساس جلد رکھنے والے افراد خوشبو سے پاک موئسچرائزر استعمال کریں تاکہ جلد کی نمی برقرار رہے اور الرجی کے امکانات کم ہوں۔
اسی طرح ایتھلیٹ فٹ بھی مون سون میں عام ہونے والا انفیکشن ہے، جو زیادہ تر گیلے موزے پہننے، نم جگہوں پر ننگے پاؤں چلنے یا پیروں کی صفائی کا خیال نہ رکھنے سے ہوتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے نہانے کے بعد پیروں کو اچھی طرح خشک کرنا، موزے باقاعدگی سے تبدیل کرنا اور ڈاکٹر کے مشورے سے اینٹی فنگل کریم استعمال کرنا مفید قرار دیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق شدید نمی اور پسینہ ہیٹ ریشز کا سبب بھی بن سکتے ہیں، جن میں سرخ دانے، خارش، جلن اور سوئیاں چبھنے جیسا احساس ہوتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے ٹھنڈے پانی سے غسل، ڈھیلے اور ہلکے کپڑوں کا استعمال اور مناسب موئسچرائزر لگانے کی سفارش کی جاتی ہے۔
نم ماحول کے باعث بیکٹیریل انفیکشن کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں جسم یا سر پر پھوڑے اور دیگر جلدی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ طبی ماہرین اچھی ذاتی صفائی اور جلد کو خشک رکھنے پر زور دیتے ہیں تاکہ ایسے انفیکشن سے بچا جا سکے۔
مون سون میں ایکنی یا مہاسوں کی شکایت بھی بڑھ سکتی ہے کیونکہ زیادہ نمی کے باعث پسینہ، گردوغبار اور جلد کی اضافی چکنائی مسام بند کر دیتی ہے۔ اس کے نتیجے میں وائٹ ہیڈز، بلیک ہیڈز یا سسٹک ایکنی پیدا ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق بینزول پیرو آکسائیڈ یا سیلیسیلک ایسڈ پر مشتمل مصنوعات اس مسئلے پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جلد کو صحت مند رکھنے کے لیے روزانہ مناسب مقدار میں پانی پینا، پھلوں، سبزیوں اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور متوازن غذا استعمال کرنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ ڈھیلے کپڑے پہننے، گیلے موزے اور جوتے بروقت تبدیل کرنے، بالوں کی صفائی برقرار رکھنے اور تولیے، کپڑے، جوتے یا نیل کٹر جیسی ذاتی اشیا دوسروں کے ساتھ استعمال نہ کرنے سے فنگل اور بیکٹیریل انفیکشن کے خطرات کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔






