ماہرین کے مطابق موبائل استعمال کرتے ہوئے مسلسل سر جھکا کر اسکرین دیکھنے سے "ٹیک نیک" نامی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے، جس میں گردن پر معمول سے کہیں زیادہ دباؤ پڑتا ہے۔ طویل عرصے تک یہ عادت برقرار رہے تو ریڑھ کی ہڈی، گردن کے جوڑ اور پٹھے متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ بعض صورتوں میں جسمانی ساخت میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے۔
برطانیہ کی ماہرِ امراضِ جلد ڈاکٹر جسٹین ہیکسٹل کا کہنا ہے کہ اسمارٹ واچ مسلسل پہننے سے جلد پر خارش، ایگزیما یا حساسیت پیدا ہو سکتی ہے، اس لیے وقتاً فوقتاً اسے اتارنا اور جلد کو صاف رکھنا بہتر ہے۔
اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی کے ماہرِ بصارت پروفیسر ڈونلڈ مٹی کے مطابق موبائل فون کو قریب سے دیکھنا نظر کی کمزوری کی واحد وجہ نہیں، بلکہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کھلی فضا میں کم وقت گزارنا آنکھوں کی صحت پر زیادہ منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ ان کے مطابق روزانہ کچھ وقت باہر گزارنا آنکھوں کی نشوونما اور مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔
دوسری جانب جرمنی کے محققین کا کہنا ہے کہ کمپیوٹر اور موبائل کے سامنے زیادہ وقت گزارنے سے جسمانی سرگرمی کم ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں ہاتھوں کی گرفت کمزور پڑ سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق مضبوط گرفت مجموعی جسمانی صحت کی ایک اہم علامت سمجھی جاتی ہے، اس لیے باقاعدہ ورزش اور جسمانی سرگرمی ضروری ہے۔
تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اسکرین ٹائم میں اضافے سے خصوصاً بچوں میں باریک جسمانی حرکات (فائن موٹر اسکلز) متاثر ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہاتھ سے لکھنے، موسیقی سیکھنے، ڈرائنگ، دستکاری اور دیگر عملی سرگرمیوں سے ان صلاحیتوں کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: معروف یوٹیوبر مسٹر بیسٹ نے 50 کروڑ سبسکرائبرز کا تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کو ترک کرنے کے بجائے اس کا متوازن استعمال اپنانا زیادہ مؤثر حکمت عملی ہے۔ موبائل کو آنکھوں کی سطح پر رکھ کر استعمال کرنا، وقفے وقفے سے اسکرین سے دور رہنا، روزانہ ورزش کرنا اور کھلی فضا میں وقت گزارنا وہ آسان اقدامات ہیں جو ڈیجیٹل ڈیوائسز کے ممکنہ جسمانی اثرات کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔







