تحریم زبیری نے حال ہی میں حافظ احمد کے پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے شوبز انڈسٹری میں خواتین کے تجربات اور درپیش مسائل پر کھل کر بات کی۔

انہوں نے کہا کہ شوبز انڈسٹری میں خواتین کو بعض اوقات ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن خواتین کے اختیار میں ہوتا ہے کہ وہ ایسی کسی بھی صورتحال کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔ ان کے مطابق، خواتین کو اکثر کمزور سمجھا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ بہت مضبوط ہوتی ہیں۔

اداکارہ نے بتایا کہ انہوں نے کم عمری میں شوبز انڈسٹری میں قدم رکھا اور تقریباً 22 سال تک کام کیا، اس دوران مختلف لوگوں کے ساتھ کام کیا اور ہمیشہ اپنی حدود واضح رکھیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک موقع پر کسی نے اشاروں میں انہیں غیر مناسب پیشکش کی کوشش کی، جس پر انہوں نے فوری طور پر انکار کر دیا۔ تحریم زبیری کا کہنا تھا کہ یہ اعتماد انہیں ان کے والد سے ملا، جنہوں نے ہمیشہ ان کا ساتھ دیا اور ہر صورتحال کا سامنا کرنا سکھایا۔

تحریم زبیری نے مزید کہا کہ جب کوئی خاتون کسی پروجیکٹ پر کام کر رہی ہوتی ہے اور اس دوران کسی نامناسب پیشکش کا سامنا ہوتا ہے تو خواتین کے اندر ایک قدرتی حس ہوتی ہے جو فوراً پہچان لیتی ہے کہ سامنے والا کیا چاہتا ہے۔ یہ حس نہ عمر سے وابستہ ہے، نہ طبقے سے، بلکہ ہر خاتون میں قدرتی طور پر موجود ہوتی ہے۔

اداکارہ نے کہا کہ وہ یہ نہیں کہتیں کہ خواتین جو ہراسانی کے واقعات بیان کرتی ہیں وہ غلط ہیں، لیکن خواتین کو خود کو ہر ایک کے لیے آسانی سے دستیاب نہیں بنانا چاہیے۔ ان کے مطابق مرد بہت چالاک ہوتے ہیں اور جانتے ہیں کہ کہاں قسمت آزمائی کرنی ہے، لہٰذا خواتین کو اپنی عزت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے، چاہے حالات جیسے بھی ہوں۔

یاد رہے کہ تحریم زبیری نے کئی کامیاب ڈراموں میں کام کیا، جن میں بول میری مچھلی، خواب زادی، تم سے مل کر، چھوٹی سی کہانی، ماں اور دیگر شامل ہیں۔ بعد ازاں، بچوں کی پیدائش کے بعد انہوں نے ڈراموں سے دوری اختیار کرلی اور اس وقت وہ امریکا میں اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ مقیم ہیں۔