معروف سائنسی جریدے Intelligence میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق بعض ترقی یافتہ ممالک میں ذہانت کے مخصوص ٹیسٹوں میں حاصل ہونے والے اسکورز میں کمی دیکھی گئی ہے۔ تاہم محققین نے واضح کیا ہے کہ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انسان پیدائشی طور پر کم ذہین ہوتے جا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق انسانوں کی جینیاتی ساخت میں کوئی منفی تبدیلی نہیں آئی، بلکہ اس رجحان کی بنیادی وجوہات ماحول، تعلیمی نظام اور جدید طرزِ زندگی میں آنے والی تبدیلیاں ہیں۔ ماضی میں بہتر غذائیت، صحت کی سہولیات اور معیارِ زندگی نے آئی کیو اسکور میں اضافہ کیا تھا، جبکہ اب بدلتے ہوئے سماجی اور تعلیمی عوامل نتائج پر اثر ڈال رہے ہیں۔
امریکا، برطانیہ، ناروے، ڈنمارک اور فن لینڈ سمیت کئی ممالک میں ہونے والی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بعض ذہانت کے ٹیسٹوں کے نتائج یا تو ایک سطح پر آ کر رک گئے ہیں یا خاص طور پر نوجوان نسل میں ان میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق اس کے پیچھے کوئی ایک وجہ نہیں بلکہ متعدد عوامل کارفرما ہیں۔
ممکنہ وجوہات میں جدید تعلیمی نظام میں تبدیلیاں، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر بڑھتا انحصار، کتابیں پڑھنے کے رجحان میں کمی، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے باعث توجہ کا بٹنا، سماجی و معاشی عدم مساوات، ماحولیاتی آلودگی اور صحت سے متعلق بعض مسائل شامل ہیں۔
محققین نے یہ بھی واضح کیا کہ روایتی آئی کیو ٹیسٹ صرف چند ذہنی صلاحیتوں، جیسے ریاضیاتی سوچ، یادداشت اور مسئلہ حل کرنے کی قابلیت، کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہ ٹیسٹ تخلیقی صلاحیت، جذباتی ذہانت یا عملی زندگی کی مہارتوں کی مکمل پیمائش نہیں کرتے۔
تحقیق کے مطابق یہ رجحان دنیا کے تمام ممالک میں یکساں نہیں پایا گیا۔ کچھ ممالک میں آئی کیو کے نتائج اب بھی مستحکم ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مؤثر تعلیمی پالیسیاں اور بہتر سماجی حالات اس صورتحال پر مثبت اثر ڈال سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس موضوع کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے مزید طویل المدتی تحقیق کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اگر تعلیمی نظام کو بہتر بنایا جائے، بچوں کی صحت مند نشوونما پر توجہ دی جائے اور سماجی و معاشی عدم مساوات کو کم کیا جائے تو آنے والی نسلوں کی ذہنی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔







