خلیل الرحمٰن قمر نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے مختلف موضوعات پر کھل کر بات کی۔

پروگرام کے دوران ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اپنے ڈرامے ’میں منٹو نہیں ہوں‘ میں استاد اور شاگرد کے رومانوی تعلقات دکھانے پر تنقید کرنے والوں کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ تنقید اور ‘بھونکنا’ میں فرق ہوتا ہے۔ ان کے ڈرامے اور کرداروں پر جو تنقید کی جا رہی ہے، وہ تعمیری ہونی چاہیے، کیونکہ اس سے اصلاح ممکن ہوتی ہے۔

ڈراما نگار کے مطابق انہوں نے ایک غیر شادی شدہ استاد اور طالبہ کے درمیان محبت دکھائی ہے اور محبت کرنا گناہ نہیں۔ دونوں غیر شادی شدہ ہیں اور شادی کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں 70 سال کی عمر کے مرد اور خواتین بھی شادی کر رہے ہیں، تو ان کے کرداروں پر تنقید کیوں کی جا رہی ہے؟

خلیل الرحمٰن نے وضاحت کی کہ ان کے ڈرامے میں افیئر نہیں دکھایا گیا، دونوں کردار غیر شادی شدہ ہیں۔ اگر کوئی کردار شادی شدہ ہوتا تو رومانوی تعلق غلط سمجھا جاتا۔

 ان کا کہنا تھا کہ استاد اور شاگرد شادی کر سکتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کے لیے نامحرم ہیں اور عمر کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حقیقت میں بھی بہت سے استاد اور شاگرد شادی شدہ ہیں اور یہ عام بات ہے۔

خلیل الرحمٰن نے مزید کہا کہ بہت سی خواتین اساتذہ نے اپنے شاگردوں سے شادی کی اور یہ حلال کام ہے، لہذا ایسی شادیوں پر تنقید بے جا ہے۔

پروگرام کے دوران انہوں نے ’میں منٹو نہیں ہوں‘ پر تنقید کرنے والوں کے لیے بھی سخت الفاظ استعمال کیے اور مرد حضرات سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کی طرف سے معاشقوں کے معاملات پر بھی تنقید کی اور شکایت کی کہ ایسی لڑکیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی، بلکہ مردوں کو ہی برا بھلا کہا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ ’میں منٹو نہیں ہوں‘ اے آر وائی ڈیجیٹل پر نشر کیا جا رہا ہے، جس میں استاد کا کردار ہمایوں سعید نے اور طالبہ کا کردار سجل علی نے ادا کیا ہے اور دونوں کے درمیان رومانوی تعلقات دکھائے گئے ہیں۔

ڈرامے میں استاد اور شاگرد کے رومانوی تعلقات دکھانے پر ٹیم کو تنقید کا سامنا ہے، لیکن خلیل الرحمٰن قمر پہلے بھی اپنے کرداروں کا دفاع کر چکے ہیں۔