فرحان سعید نے حال ہی میں پروگرام ’ہنسنا منع ہے‘ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اداکاری اور گلوکاری سمیت دیگر موضوعات پر کھل کر بات کی۔

پروگرام کے دوران ایک سوال کے جواب میں انہوں نے انڈیا میں میوزک کنسرٹ کے دوران پیش آنے والے واقعے کو بیان کیا، جس میں وہ اور ان کے ساتھی حملے کے خطرے سے بچ گئے۔

ان کے مطابق امن کی خواہش کے دوران ان کا میوزیکل بینڈ انڈین دورے پر گیا اور ان کے کنسرٹ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، دورہ شاندار رہا۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر انہوں نے نئی دہلی میں کنسرٹ کیا، جہاں انہوں نے مشہور گانا ’عادت‘ بھی گایا اور دیگر گانے بھی پیش کیے۔

فرحان سعید نے کہا کہ دہلی کے کنسرٹ کے دوران انہوں نے مشہور ملی نغمہ ’دل دل پاکستان‘ گایا، لیکن ’’جان جان پاکستان‘‘ کی جگہ ’’جان جان ہندوستان‘‘ گایا۔

ان کے مطابق ان کے اس گانے پر پنڈال میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور ہر کسی کو گانا پسند آیا، جس کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ انڈیا میں ہر کنسرٹ میں اسی انداز میں گائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ دہلی کے بعد ان کا اگلا کنسرٹ کولکتہ میں ہوا، جہاں پورا کرکٹ گراؤنڈ لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔

کنسرٹ کے دوران دیگر گانوں کی پرفارمنس کے بعد وہ ’دل دل پاکستان، جان جان ہندوستان‘ گانے لگے، لیکن گانا ختم ہونے سے قبل ہی آرگنائزر ان کے پاس آئے اور کہا کہ گانا ختم ہوتے ہی فوری طور پر گاڑی میں جائیں۔

فرحان نے بتایا کہ آرگنائزر کی ہدایات پر وہ اور ان کے بینڈ کے ارکان پریشان ہوگئے کیونکہ کنسرٹ میں جوش زیادہ تھا اور انہیں یہ بات سمجھ نہیں آئی۔

گانا ختم ہونے کے بعد جیسے ہی وہ گاڑی میں بیٹھے، ڈرائیور نے تیزی سے گاڑی وہاں سے نکالی، جس پر وہ مزید پریشان ہوگئے اور پوچھتے رہے کہ کیا ہوا، مگر کچھ نہیں بتایا گیا۔

ہوٹل پہنچنے کے بعد انہوں نے آرام سے آرگنائزر سے بات کی، جس پر آرگنائزر جذباتی ہوگئے اور شکوہ کیا کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا۔

فرحان نے بتایا کہ جب انہوں نے پوچھا کیا ہوا، تو آرگنائزر نے کہا کہ آپ نے ’’دل دل پاکستان، جا جا ہندوستان‘‘ گایا، جس پر 300 سے 400 نوجوان حملے کے لیے تیار ہوگئے تھے، اسی وجہ سے انہیں فوری طور پر وہاں سے نکالا گیا۔

فرحان سعید نے کہا کہ انہوں نے آرگنائزر کو بتایا کہ وہ ’’جا جا ہندوستان‘‘ نہیں بلکہ ’’جان جان ہندوستان‘‘ گا رہے تھے، جسے سننے والے صحیح نہیں سمجھ سکے۔