طبی ویب سائٹ کے مطابق موویمبر نامی تنظیم اور پین نرسنگ کے پروگرام فار مینز ہیلتھ ایکوئٹی کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں 53 فیصد مرد 75 سال کی عمر سے پہلے ہی مر جاتے ہیں اور یہ کہ کچھ اقدامات اٹھا کر ان میں سے زیادہ تر اموات کو روکا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 1980 میں امریکی مرد دوسرے ترقی یافتہ ممالک کے مردوں سے صرف 1.2 سال کم عمر پاتے تھے، لیکن 2023 تک یہ فرق بڑھ کر 4.5 سال تک جا پہنچا، جو کہ ایک خطرناک رجحان ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق امریکی مردوں کی موت کا امکان خواتین کے مقابلے میں دل کی بیماریوں، حادثات، خودکشی اور منشیات کے استعمال کے باعث دو گنا زیادہ ہے۔

تحقیق سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ 15 سے 34 سال کی عمر کے ایک چوتھائی سے زیادہ امریکی مرد تنہائی کا شکار رہتے ہیں، جو ذہنی صحت کے بگڑنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی مردوں کی قبل از وقت موت کی پانچ بڑی وجوہات سامنے آئی ہیں جن میں امراضِ قلب، حادثات، خودکشی، منشیات کا زیادہ استعمال اور کینسر شامل ہےجو ملک کی معیشت پر سالانہ 420 ارب ڈالرز کا بوجھ ڈالتی ہیں۔

تحقیق کرنے والی تنظیم نے سفارش کی کہ امریکی صحت کے نظام اور پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں لائی جائیں تاکہ مردوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کو بہتر بنایا جا سکے، خصوصاً دل کے امراض، منشیات کے استعمال اور ذہنی دباؤ پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ انہی وجوہات کے باعث امریکی خواتین کی اموات نمایاں طور پر کم ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ مردوں کے لیے مخصوص صحت کے پروگرامز پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔