عالمی خبررساں ادارے  ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سوتھبیز کا کہنا ہے کہ یہ فن پارہ  فن اور دولت کے امتزاج پر ایک تیز طنز  ہے۔ ایک سو ایک کلوگرام خالص سونے سے بنا یہ ٹوائلٹ مکمل طور پر فعال ہے اور یہ وہی ڈیزائن ہے جس کا ایک ورژن 2019 میں برطانیہ کے بلن ہِم پیلس سے ایک ڈکیتی میں چوری ہوا تھا۔

رپورٹ کے مطابق 18 نومبر کو نیویارک میں ہونے والی نیلامی میں اس فن پارے کی ابتدائی قیمت صرف اس میں استعمال ہونے والے سونے کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے برابر رکھی گئی ہے، جو تقریباً 10 ملین امریکی ڈالرز بنتی ہے۔

سوتھبیز کے عصری فن کے سربراہ ڈیوڈ گیلپرین کا کہنا ہے کہ ماریزیو کیٹیلان "آرٹ کی دنیا کے سب سے بڑے اشتعال انگیز فنکار" ہیں، جو فن، مزاح اور طنز کو ایک ساتھ جوڑنے کا ہنر رکھتے ہیں۔

کیٹیلان پہلے بھی متنازع فن پاروں کے ذریعے دنیا بھر میں توجہ حاصل کر چکے ہیں۔ ان کا مشہور فن پارہ 'کامیڈین' ایک کیلے کو دیوار پر ڈکٹ ٹیپ سے چپکانے والا مجسمہ جو 2019 میں چھ ملین ڈالرزمیں فروخت ہواتھا۔

اسی طرح ان کا خوفناک مگر مشہور مجسمہ 'ہِم' گھٹنے ٹیکے ایڈولف ہٹلر کی شبیہہ کا فن پارہ 2016 میں 17.2 ملین ڈالرز میں نیلام ہوا تھا۔

رپورٹ کے مطابق  امریکا کے دو ورژن 2016 میں بنائے گئے تھے۔ ایک ورژن نیویارک کے گوگن ہائیم میوزیم میں نمائش کے لیے رکھا گیا، جہاں اُسے ایک لاکھ سے زائد افراد نے دیکھنے کے لیے قطاریں لگائیں۔

دوسرا ورژن بلن ہِم پیلس میں نصب کیا گیاتھا مگر صرف چند دن بعد ہی چور اسے پلمبنگ سے الگ کر کے لے گئے۔ بعد میں دو افراد کو گرفتار کر کے سزا دی گئی، مگر سونے کا ٹوائلٹ آج تک برآمد نہیں ہو سکا۔

گیلپرین کے مطابق  امریکا  ایک ایسا فن پارہ ہے جو خام مال کی قیمت اور فنکارانہ تصور کے درمیان کے توازن پر سوال اٹھاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ آرٹ ورک ہے جس میں نہ صرف طنز پوشیدہ ہے بلکہ ایک تلخ حقیقت بھی، چاہے آپ دو سو ڈالرز  کا لنچ کھائیں یادو ڈالرز  کا ہاٹ ڈاگ،آخر میں آپ کو جانا ٹوائلٹ ہی ہے۔

واضح رہے کہ یہ ٹوائلٹ 8 نومبر سے سوتھبیز کے نیویارک ہیڈکوارٹر میں نمائش کے لیے رکھا جائے گا۔