عدالتی ذرائع کے مطابق رجب بٹ اور ندیم نانی والا نے الگ الگ آئینی درخواستیں دائر کی ہیں، جن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان کے نام نو ٹریول لسٹ میں شامل کرنا غیر قانونی، غیر آئینی اور بنیادی حقوق کے منافی ہے۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ سفری پابندیوں کے باعث ان کی پیشہ ورانہ سرگرمیاں، بین الاقوامی معاہدے اور روزگار بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
درخواستیں وکلاء بیرسٹر راجہ قدیر جنجوعہ اور احد کھوکھر کے ذریعے دائر کی گئیں، جن میں وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)، سیکریٹری داخلہ اور دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ فوری طور پر درخواست گزاروں کے نام نو ٹریول لسٹ سے خارج کرنے اور بیرونِ ملک سفر کی اجازت دینے کے احکامات جاری کیے جائیں۔
مزید پڑھیں: یوٹیوبر رجب بٹ عبوری ضمانت میں توسیع، عدالت نے سماعت 10 فروری تک ملتوی کر دی
درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخواست گزار کسی عدالت سے سزا یافتہ نہیں ہیں اور نہ ہی ان پر ایسا کوئی الزام ثابت ہوا ہے جو ان کے بنیادی حقوق سلب کرنے کا جواز بن سکے۔ وکلاء نے مؤقف اپنایا کہ محض زیرِ تفتیش ہونا کسی شہری کو سفر سے روکنے کی قانونی بنیاد نہیں بنتا۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں ان درخواستوں پر جلد سماعت متوقع ہے، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ دونوں سوشل میڈیا شخصیات کو بیرونِ ملک سفر کی اجازت دی جا سکتی ہے یا نہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل لاہور کی ایک عدالت نے جوئے کی ایپ کی تشہیر سے متعلق مقدمے میں رجب بٹ اور ندیم نانی والا کی عبوری ضمانت میں 16 فروری تک توسیع کی تھی۔ یہ فیصلہ لاہور سیشن کورٹ میں عبوری ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کے دوران ایڈیشنل سیشن جج منصور احمد قریشی نے سنایا تھا۔
سماعت کے دوران نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے عدالت کو بتایا تھا کہ تفتیش ابھی مکمل نہیں ہوئی اور مزید وقت درکار ہے، جس پر عدالت نے تفتیشی افسر کو تحقیقاتی رپورٹ جمع کرانے کے لیے مہلت دے دی تھی۔






