عالمی خبرساں ادارے روئٹرز کے مطابق تمام نقد بولی 27.75 ڈالر فی شیئر ہے اور وارنر برادرز کے بورڈ نے اسے متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نیٹ فلکس اور پیراماؤنٹ اسکائی ڈانس دونوں ہی وارنر برادرز کے مشہور فلم و ٹی وی اسٹوڈیوز، وسیع مواد کی لائبریری اور بڑی فرنچائزز جیسے گیم آف تھرونز اور سپر مین حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

پیراماؤنٹ نے اپنی بولی میں تبدیلی کرتے ہوئے میڈیا مہم تیز کر دی ہے تاکہ حصص یافتگان کو قائل کیا جا سکے کہ اس کی پیشکش بہتر ہے، تاہم وارنر برادرز نے ڈیوڈ ایلیسن کی زیرِ قیادت کمپنی کی یہ کوشش مسترد کر دی۔ منگل کے روز پیراماؤنٹ نے نیٹ فلکس کی نئی پیشکش پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ وارنر برادرز نے بتایا ہے کہ اس معاہدے پر ووٹنگ کے لیے سرمایہ کاروں کا خصوصی اجلاس بلایا جائے گا، جو ممکنہ طور پر اپریل میں ہوگا۔

نیٹ فلکس کے شریک سی ای او ٹیڈ سرینڈوس کا کہنا ہے کہ نئی مکمل نقد پیشکش سے شیئر ہولڈرز کا ووٹ جلد ممکن ہو گا اور مالی اعتبار سے بھی زیادہ یقین ملے گا۔

مارکیٹ میں ٹریڈنگ کے دوران نیٹ فلکس کے حصص میں 0.9 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ پیراماؤنٹ کے شیئرز 1.9 فیصد اور وارنر برادرز کے شیئرز 0.5 فیصد نیچے آئے۔

سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ بولی کی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ ہیرس اوکمارک کے پورٹ فولیو مینیجر الیکس فچ کے مطابق نیٹ فلکس کی نئی پیشکش پیراماؤنٹ پر مزید دباؤ ڈالتی ہے اور اسے بہتر پیشکش لانے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ کے مطابق پانچ دسمبر سے نیٹ فلکس کے شیئرز تقریباً 15 فیصد گر چکے ہیں اور جمعہ کو 88 ڈالر فی شیئر پر بند ہوئے جو ابتدائی بولی کی 97.91 ڈالر کی حد سے کم ہے۔ پیراماؤنٹ اسی بنیاد پر اپنی بولی کو بہتر قرار دے رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: فلم ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ کی شوٹنگ کے دوران کرن جوہر سلمان خان کے سامنے کیوں رو پڑے؟ وجہ بتا دی

نیٹ فلکس کی نئی 27.75 ڈالر فی شیئر پیشکش اس کی پرانی نقد و اسٹاک بولی یعنی 23.25 ڈالر نقد اور 4.50 ڈالر اسٹاک کی جگہ لے رہی ہے۔

وارنر برادرز کا کہنا ہے کہ انضمام کے بعد سرمایہ کاروں کو یقینی قدر اور نقدی دستیاب ہو گی، کیونکہ یہ رقم ایک مستحکم سرمایہ کاری درجہ رکھنے والی کمپنی کے ذریعے ادا کی جائے گی۔

کمپنی نے اس منصوبہ بند اسپن آف "ڈسکوری گلوبل" کی قیمت بھی ظاہر کی ہے، جس میں سی این این، ٹی این ٹی اسپورٹس اور ڈسکوری پلس جیسے ٹی وی اور اسٹریمنگ اثاثے شامل ہوں گے۔

وارنر برادرز کے مطابق نیٹ فلکس کا انضمام اس لیے بہتر ہے کہ سرمایہ کاروں کے پاس ڈسکوری گلوبل کے شیئرز بھی باقی رہیں گے، جب کہ پیراماؤنٹ اسکائی ڈانس کی 30 ڈالر فی شیئر کیش پیشکش اس کے مقابلے میں کمزور ہے۔

ڈسکوری گلوبل کی قیمت مختلف انداز سے لگائی گئی، جس کے مطابق کم از کم ویلیو 1.33 ڈالر فی شیئر اور زیادہ سے زیادہ 6.86 ڈالر فی شیئر رہی۔

پیراماؤنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ کیبل اسپن آف کی یہ ویلیو عملی طور پر بے کار ہے۔

رپورٹ کے مطابق پیراماؤنٹ اسکائی ڈانس نے فریقین کو معلومات کے افشاء میں تیزی کے لیے عدالت سے رجوع بھی کیا، لیکن ڈیلاویئر عدالت نے درخواست مسترد کر دی۔

21 جنوری کو ختم ہونے والی اس کی ٹینڈر پیشکش پر پیراماؤنٹ نے رائٹرز کو کوئی فوری جواب نہیں دیا۔

یہ بھی پڑھیں: ساہیوال: شہری ہنی ٹریپ کا شکار، معاملہ کیا ہے؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک پیراماؤنٹ اپنی پیشکش نہیں بڑھاتا، اس کی اپیلیں بے اثر ہوں گی۔

اس سال کے آخر تک شیئر ہولڈرز کی جانب سے ووٹنگ کا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے، جہاں کیبل اثاثوں کی اصل قیمت کا تعین کیا جائے گا۔

وارنر برادرز نے ایک بار پھر کہا کہ پیراماؤنٹ کی 30 ڈالر فی شیئر کی پیشکش قیمت، خطرات اور غیر یقینی حالات کو دیکھتے ہوئے ناکافی ہے۔

ایمارکیٹر کے تجزیہ کار راس بینس کے مطابق نیٹ فلکس کا مکمل نقد معاہدہ سامنے لانا اس وقت ایک بڑی حکمت عملی ہے، جب اس کے اپنے شیئرز گر رہے تھے۔ ان کے مطابق نقد پیشکش وارنر برادرز کے لیے زیادہ پرکشش ثابت ہوسکتی ہے، اگرچہ یہ ریگولیٹری جانچ پڑتال سے محفوظ نہیں۔

نیٹ فلکس کے ساتھ انضمام کی صورت میں مشترکہ کمپنی پر 85 ارب ڈالر کا قرض ہوگا، جو پیراماؤنٹ کے ممکنہ انضمام میں 87 ارب ڈالر بنتا ہے۔ تاہم نیٹ فلکس کی مارکیٹ ویلیو 402 ارب ڈالر ہے، جب کہ پیراماؤنٹ کی محض 12.6 ارب ڈالر۔

نیٹ فلکس کے ساتھ مجوزہ معاہدے میں کم قرض کا بوجھ ہوگا، جہاں لیوریج ریشو چار سے کم ہے، جب کہ پیراماؤنٹ کے ساتھ یہ تقریباً سات بنتا ہے۔

ریگولیٹری فائلنگ کے مطابق نیٹ فلکس نے یہ بھی مان لیا ہے کہ ڈسکوری گلوبل کا قرض 260 ملین ڈالر کم کر دیا جائے گا۔

وارنر برادرز نے کہا کہ نیٹ فلکس کے پاس سرمایہ کاری کے درجے کی کریڈٹ ریٹنگ ہے، جب کہ پیراماؤنٹ کے بانڈز ایس اینڈ پی کے مطابق "جنک" لیول پر ہیں اور مزید دباؤ کا سامنا کر سکتے ہیں۔

اگرچہ شیئر ہولڈرز کی منظوری ایک اہم قدم ہے، مگر ماہرین کے مطابق سیاسی سطح پر میڈیا کے مزید انضمام پر خدشات موجود ہیں کہ اس سے قیمتیں بڑھیں گی اور صارفین کی پسند محدود ہو جائے گی۔