فلم کی ہدایت کاری معروف امریکی ہدایتکار انٹوان فوکا نے انجام دی ہے، جبکہ اسے نامور پروڈیوسر گراہم کنگ نے پروڈیوس کیا ہے۔ اس پروجیکٹ کی سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ مائیکل جیکسن کا کردار ان کے حقیقی بھتیجے جعفر جیکسن نے ادا کیا ہے، جو اس فلم کے ذریعے شوبز انڈسٹری میں اپنے کیریئر کا باقاعدہ آغاز کر رہے ہیں۔

فلم کی کاسٹ میں ہالی ووڈ کے کئی بڑے نام شامل ہیں، جن میں نیا لانگ، کولمین ڈومنگو اور مائلس ٹیلر شامل ہیں۔ مائیکل جیکسن کے بچپن کے کردار کے لیے بھی مختلف اداکاروں کو شامل کیا گیا ہے تاکہ ان کی ابتدائی زندگی کو حقیقت کے قریب دکھایا جا سکے۔

کہانی کا مرکزی نکتہ مائیکل جیکسن کی ابتدائی جدوجہد، فیملی بینڈ "جیکسن فائیو" سے عالمی شہرت تک کے سفر پر مبنی ہے۔ فلم میں ان کے میوزک کیریئر کے عروج، خاندانی تعلقات، اور شہرت کے ساتھ جڑے دباؤ کو تفصیل سے پیش کیا گیا ہے۔ خاص طور پر 1980 کی دہائی کے مشہور "Bad Tour" کو فلم کا اہم حصہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے بعد کی زندگی کو نسبتاً محدود انداز میں دکھایا گیا ہے۔

فلم کی تیاری کے دوران کئی بار اسکرپٹ میں تبدیلیاں کی گئیں اور کچھ مناظر کو دوبارہ فلمایا گیا، جس کے باعث کہانی کے بعض حصوں کو مختصر کر دیا گیا۔ اس کے باوجود فلم کو بصری لحاظ سے متاثرکن اور موسیقی کے اعتبار سے مضبوط قرار دیا جا رہا ہے، جس میں مائیکل جیکسن کے یادگار گانوں اور اسٹیج پرفارمنسز کو بھرپور انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

ابتدائی جائزوں میں فلم کو ملا جلا ردعمل ملا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ فلم میں مائیکل جیکسن کی زندگی کے متنازع پہلوؤں کو زیادہ نمایاں نہیں کیا گیا، تاہم ان کی موسیقی، رقص اور فنکارانہ صلاحیتوں کو شاندار طریقے سے اجاگر کیا گیا ہے۔

دوسری جانب، جعفر جیکسن کی اداکاری کو خاص طور پر سراہا جا رہا ہے، جنہوں نے اپنے چچا کے انداز، ڈانس مووز اور اسٹیج پر موجودگی کو نہایت مہارت سے پیش کیا۔ شائقین کا کہنا ہے کہ ان کی پرفارمنس فلم کی سب سے بڑی طاقت بن کر سامنے آئی ہے۔

واضح رہے کہ ’’مائیکل‘‘ کو رواں سال کی سب سے زیادہ متوقع بایوپک فلموں میں شمار کیا جا رہا تھا، اور اب اس کی نمائش کے ساتھ ہی دنیا بھر میں سینما گھروں میں غیر معمولی رش دیکھنے میں آنے کا امکان ہے۔