انڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق معروف پروڈکشن ہاؤس تریمورتی فلمز نے کرن جوہر کی دھرما پروڈکشن کے خلاف عدالت سے رجوع کیا ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ فلم میں 1992 کے مشہور گانے سات سمندر پار کی دھن اور شاعری کو غیرقانونی طور پر نقل کیا گیا ہے۔
تریمورتی فلمز کا دعویٰ ہے کہ آنے والی فلم میں مذکورہ گانے کو بغیر اجازت استعمال کیا گیا، جو اوریجنل کمپوزیشن اور شاعری کے حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔
عدالت میں دائر درخواست کے مطابق، پروڈکشن ہاؤس نے 10 کروڑ روپے ہرجانے کے ساتھ ساتھ اس گانے کو فلم تو میری میں تیرا، میں تیرا تو میری یا کسی بھی دوسری فلم میں استعمال کرنے، اس سے مالی فوائد حاصل کرنے یا اس میں کسی قسم کی ترمیم پر مستقل حکمِ امتناع جاری کرنے کی استدعا بھی کی ہے۔
فلم کا ٹریلر پہلے ہی جاری کیا جا چکا ہے، جب کہ یہ رومانٹک مزاحیہ فلم 25 دسمبر کو سینما گھروں کی زینت بننے جا رہی ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ دونوں فریقین کی شہرت اور فلم کی ریلیز کی تاریخ قریب ہونے کے باعث اس مقدمے کے جلد فیصلے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق مقدمے میں کرن جوہر سمیت دھرما پروڈکشنز اور ناماہ پکچرز پرائیویٹ لمیٹڈ کو فریق بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سارے گاما انڈیا لمیٹڈ اور معروف ریپر و کمپوزر ادیتیا پراتیک سنگھ المعروف بادشاہ کو بھی مقدمے میں شامل کیا گیا ہے، جو مبینہ طور پر گانے کے نئے ورژن سے وابستہ ہیں۔
تریمورتی فلمز نے مؤقف اپنایا ہے کہ گانے کے استعمال سے اوریجنل کمپوزیشن کے حقوق مجروح ہوئے ہیں۔ دوسری جانب دھرما پروڈکشن یا دیگر فریقین کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یاد رہے کہ سات سمندر پار 1992 میں ریلیز ہونے والی فلم وشواتما کا مقبول گیت تھا، جسے سادھنا سرگم نے گایا تھا اور دیویا انڈین پر فلمایا گیا تھا۔ اس گانے کی دھن وجوشا نے ترتیب دی تھی اور یہ اپنے دور کے مقبول ترین گانوں میں شمار ہوتا ہے۔
فلم تو میری میں تیرا، میں تیرا تو میری کے ہدایتکار سمیر ودوانس ہیں جبکہ اسے کرن جوہر، آدر پوناوالا، اپورو مہتا، بھومیکا تیواری، شرین منتری کیڈیا اور کشور اروڑا نے دھرما پروڈکشنز اور ناماہ پکچرز کے بینر تلے پروڈیوس کیا ہے۔
فلم میں کارتک آریان اور اننیا پانڈے مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں، جب کہ دیگر اداکاروں میں نینا گپتا، جیکی شروف اور ٹیکو تلسانیہ شامل ہیں۔
واضح رہے کہ یہ فلم ریلیز سے قبل نہ صرف کاپی رائٹ تنازع بلکہ دیگر وجوہات کی بنا پر بھی سوشل میڈیا اور فلمی حلقوں میں زیر بحث ہے۔





