بھارتی میڈیا کے مطابق انہیں گزشتہ روز سینے میں شدید درد کی شکایت پر بریچ کینڈی اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں مبینہ طور پر دل کا دورہ پڑنے کے باعث وہ جانبر نہ ہو سکیں۔
ان کے بیٹے آنند بھوسلے نے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی آخری رسومات کل دوپہر 4 بجے ممبئی کے شیو جی پارک میں ادا کی جائیں گی، جبکہ مداح صبح 11 بجے کاسا گرینڈ، لوئر پرل میں ان کا آخری دیدار کر سکیں گے۔
آشا بھوسلے برصغیر کی موسیقی کی دنیا کا ایک بڑا نام تھیں، جنہوں نے دہائیوں تک اپنی آواز سے فلمی صنعت کو متاثر کیا اور ہزاروں مقبول گیت گائے۔
ان کی پیدائش 8 ستمبر 1933 کو بھارتی ریاست مہاراشٹر کے شہر سنگلی میں ہوئی۔ وہ عظیم گلوکارہ لتا منگیشکر کی چھوٹی بہن تھیں، تاہم انہوں نے اپنی ایک منفرد شناخت قائم کی۔
انہوں نے کم عمری میں گلوکاری کا آغاز کیا اور بعد ازاں بھارتی فلمی صنعت میں پلے بیک سنگنگ کے ذریعے شہرت حاصل کی۔ انہوں نے ہندی، مراٹھی، بنگالی، تامل سمیت متعدد زبانوں میں گانے گائے۔
اندازوں کے مطابق انہوں نے اپنی طویل فنی زندگی میں 12 ہزار سے زائد گانے ریکارڈ کیے، جس کے باعث انہیں دنیا کی سب سے زیادہ ریکارڈنگ کرنے والی فنکاراؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔
ان کی آواز کی سب سے نمایاں خوبی اس کی لچک تھی، جس نے انہیں رومانوی، کلاسیکل، پاپ اور کیبرے طرز کے گانوں میں یکساں مہارت کے ساتھ کامیاب بنایا۔ ان کا مشہور گانا دم مارو دم آج بھی کلاسیکی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے معروف موسیقار آر ڈی برمن کے ساتھ مل کر کئی یادگار گیت تخلیق کیے اور بعد میں ان سے شادی بھی کی۔ آشا بھوسلے کو بھارت کے اعلیٰ ترین سول اعزازات سے نوازا گیا اور انہیں موسیقی کی دنیا میں ایک زندہ لیجنڈ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔






