وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت سرکاری اور نجی شعبے کے تنخواہ دار افراد کو درپیش مشکلات سے بخوبی آگاہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر حکومت نے تنخواہ دار طبقے کے لیے اہم ٹیکس ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق سالانہ 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے تک آمدن رکھنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اسی طرح 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے سالانہ آمدن والے تنخواہ دار افراد کے لیے ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ 41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والوں کے لیے انکم ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 29 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
مزید برآں 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے تک سالانہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 32 فیصد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے سالانہ آمدن رکھنے والوں کے لیے سپر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 50 کروڑ روپے سے زائد سالانہ آمدن رکھنے والوں پر عائد سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق جائیداد کی منتقلی پر عائد ٹیکس بھی 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ پراپرٹی سیکٹر میں سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ چھوٹے دکانداروں اور تاجروں کے لیے انکم ٹیکس کی ادائیگی کو آسان بنانے کے مقصد سے ’’فکسڈ ٹیکس سسٹم‘‘ متعارف کرانے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنا اور انہیں موجودہ معاشی حالات میں زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا ہے۔







