وزیراعظم نے کہا: "ہم نے قوم سے جو وعدہ کیا تھا، الحمدللہ آج وہ پورا ہو رہا ہے۔"
پمپ پر قطاریں لگی ہیں، موٹرسائیکل سواروں کے چہرے پر مسکراہٹ ہے اور سوشل میڈیا پر حکومت کی تعریف ہو رہی ہے۔
28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملے کیے، سٹریٹ آف ہرمز بند ہوئی اور پوری دنیا میں تیل کی قیمتیں آسمان چھونے لگیں۔
7 مارچ کو پاکستان میں پٹرول 55 روپے فی لیٹر مہنگا کر کے 321 روپے کر دیا گیا۔ مہینوں تک مہنگائی کی چکی چلتی رہی۔ مئی 2026 میں پاکستان کی افراطِ زر 11.7 فیصد تک جا پہنچی جس میں ایندھن کی قیمتیں بڑی وجہ تھیں۔
اب امریکہ-ایران معاہدے کے بعد عالمی منڈی میں تیل سستا ہوا — اور پاکستان نے وہ کمی عوام تک پہنچائی۔ حکومت کے مطابق ترقیاتی بجٹ اور کفایت شعاری سے بچائے گئے 129 ارب روپے اس دوران عوام کو ریلیف دینے میں خرچ کیے گئے۔
Arab Light خام تیل، جو پاکستان کی بینچ مارک گریڈ ہے، ایک ہفتے میں 96 ڈالر سے گر کر 80 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ یہ گراوٹ اچھی خبر ہے لیکن یاد رہے، جنگ سے پہلے یہی تیل 70 ڈالر پر تھا۔ یعنی منزل ابھی دور ہے۔
اور پھر وہ سوال جو ماہرِ توانائی پوچھتے ہیں: کیا بند پڑے کنویں دوبارہ اسی طرح چل سکتے ہیں؟
تیل کا کنواں نل نہیں ہوتا جو بند کرو اور کھول دو۔ جب کنواں مہینوں بند رہے تو اس کے اندر آسفالٹین نامی مادہ پائپوں میں جم جاتا ہے، سیمنٹ کی طرح سخت۔ چھ ماہ بند رہے تو صفائی پر اربوں ڈالر اور مہینوں کا وقت لگتا ہے، اور ایک سال سے زیادہ بند رہے تو بعض کنویں ہمیشہ کے لیے مر جاتے ہیں۔
آئی ای اے کے سربراہ فاتح بیرول کے مطابق اس جنگ میں 80 سے زیادہ توانائی کی تنصیبات پر حملے ہوئے، ان میں سے ایک تہائی سے زیادہ شدید تباہ ہوئیں۔ مرمت کا کم از کم بل 34 ارب ڈالر ہے اور سب کچھ بحال ہونے میں دو سال تک لگ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ بحران 1970 کی دہائی کے دونوں تیل کے جھٹکوں اور 2022 کی روس-یوکرین گیس بحران کو ملا کر بھی اس سے بڑا ہے۔
18 مارچ کو اسرائیل نے دنیا کے سب سے بڑے گیس فیلڈ جنوبی پارس پر حملہ کیا جو ایران کی 70 فیصد سے زیادہ گیس پیداوار کا مرکز ہے۔ اس سے ایران کی 12 فیصد گیس پیداوار رک گئی اور دو ریفائنریاں بند ہوئیں۔
سعودی عرب میں 550,000 بیرل یومیہ صلاحیت کی رأس تنورہ ریفائنری بھی ڈرون حملے سے بند ہوئی اور سعودی پیداوار 20 لاکھ بیرل یومیہ کم ہوئی۔
امریکہ-ایران معاہدے کی امید سے عالمی تیل کی قیمتیں نیچے آئیں، تاہم جمعے کو سوئٹزرلینڈ مذاکرات کے ٹوٹنے اور اسرائیل کے لبنان پر حملوں سے قیمتیں پھر قدرے اوپر گئیں۔
یعنی صورتحال ابھی مکمل طور پر مستحکم نہیں۔
آج کا 74 روپے کا ریلیف حقیقی ہے اور عوام اس کے مستحق ہیں۔ لیکن 34 ارب ڈالر کی تباہ تنصیبات، زمین کے اندر جمی آسفالٹین، اور دو سال کا مرمت کا کام کسی اعلان سے ٹھیک نہیں ہوگا۔







