یہ انکشاف پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کی ایک حالیہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں قومی بچت مہم کا آغاز کیا جائے اور عوام میں بچت کے رجحان کو فروغ دینے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

پائیڈ نے اپنی سفارشات میں طویل مدتی بچت اسکیموں پر دوبارہ ٹیکس مراعات دینے، چھوٹے بچت کنندگان کے تحفظ کو یقینی بنانے، قومی بچت مصنوعات کی ڈیجیٹل رسائی بڑھانے اور سالانہ سیونگز موبلائزیشن ڈیش بورڈ قائم کرنے کی تجاویز پیش کی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ملک میں کم بچت کی شرح سرمایہ کاری کے بحران کو جنم دے سکتی ہے اور معیشت کو بار بار بیرونی قرضوں اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگراموں پر انحصار کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔

پائیڈ کا کہنا ہے کہ پاکستانی عوام ہر 100 روپے آمدنی میں سے صرف 6 روپے بچا رہے ہیں۔ مہنگائی، کم منافع اور مالیاتی نظام پر کم اعتماد کے باعث لوگوں کا رجحان بینکوں کے بجائے سونا، جائیداد اور نقد رقم کی جانب بڑھ رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی قومی بچت کی شرح محض 6.4 فیصد ہے، جب کہ بنگلہ دیش میں یہ شرح 21 فیصد، بھارت میں 28 فیصد اور ویتنام میں تقریباً 30 فیصد ہے۔

رپورٹ میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر قرض لینے کے باعث نجی شعبے کی سرمایہ کاری متاثر ہو رہی ہے، جس سے معاشی سرگرمیوں اور ترقی کی رفتار سست پڑنے کا خدشہ ہے۔

پائیڈ نے سفارش کی ہے کہ خواتین، پنشنرز اور غیر رسمی شعبے سے وابستہ کارکنوں کے لیے خصوصی بچت مراعات متعارف کرائی جائیں۔ اس کے علاوہ چھوٹے بچت کنندگان کے تحفظ اور قومی بچت اسکیموں کی ڈیجیٹل سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ دوسروں کے پیسوں سے مستقبل چلانے کا ماڈل مزید دیر تک نہیں چل سکتا۔ پائیڈ کے مطابق اگر بچت کو محفوظ، منافع بخش اور آسان بنایا جائے تو پاکستانی عوام زیادہ بچت کرنے کی طرف راغب ہو سکتے ہیں۔

ادارے نے حکومت کو یہ بھی تجویز دی ہے کہ بچت کے رجحانات اور اہداف کی نگرانی کے لیے سالانہ سیونگز موبلائزیشن ڈیش بورڈ قائم کیا جائے تاکہ قومی سطح پر بچت کے فروغ کے اقدامات کا مؤثر جائزہ لیا جا سکے۔