غیر ملکی نشریاتی ادارے رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت بیرونی مالیاتی ضروریات کو پورا کرنے اور قرضوں کے ڈھانچے کو مزید مستحکم بنانے کے لیے پانڈا بانڈز، یورو بانڈز اور دیگر تجارتی مالیاتی ذرائع سے استفادہ کرنے پر غور کر رہی ہے، حکومت کا مقصد نئے مالی وسائل حاصل کرنا ہے، تاہم مجموعی بیرونی قرضوں کے حجم میں غیر ضروری اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے اور حکومت مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، عالمی مالیاتی منڈیوں میں دوبارہ رسائی حاصل کرنا پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہوگا، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
وزیر خزانہ نے ایران سے متعلق حالیہ سفارتی پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں کشیدگی میں کمی اور ممکنہ استحکام کے باعث پاکستان سمیت کئی ممالک کی معیشتوں پر مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے، اگر تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی آتی ہے اور تجارتی سرگرمیاں معمول پر آتی ہیں تو پاکستان کو بھی اس کے براہِ راست فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ بجٹ میں مقرر کردہ معاشی اہداف میں فی الحال کوئی تبدیلی نہیں کی جا رہی۔ حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے 4 فیصد اقتصادی شرح نمو اور 8.2 فیصد افراطِ زر کا ہدف مقرر کیا ہے، اور تمام پالیسی اقدامات انہی اہداف کے حصول کے لیے ترتیب دیے گئے ہیں۔
محمد اورنگزیب کے مطابق پاکستان کو ایک ارب ڈالر مالیت کے پانڈا بانڈز کے اجرا کی منظوری حاصل ہو چکی ہے، جبکہ آئندہ مالی سال کے دوران بین الاقوامی کمرشل مارکیٹوں اور یورو بانڈز کے ذریعے تقریباً 2.82 ارب ڈالر حاصل کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔
مزید پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ختم ہوتے ہی مہنگائی میں کمی آئے گی، وفاقی وزیر خزانہ
انہوں نے کہا کہ حکومت عالمی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور پاکستان کی معاشی اصلاحات کو مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے، محصولات میں اضافے، برآمدات کے فروغ اور سرمایہ کاری کے بہتر ماحول کے باعث ملکی معیشت میں بتدریج بہتری آ رہی ہے۔
وزیر خزانہ نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ علاقائی استحکام، توانائی کی قیمتوں میں ممکنہ کمی اور بین الاقوامی تجارتی سرگرمیوں میں بہتری کے نتیجے میں پاکستان کے مالیاتی اشاریے مزید مضبوط ہوں گے،حکومت تمام عالمی اور علاقائی معاشی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر مناسب پالیسی فیصلے کیے جائیں گے تاکہ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر ترقی کی راہ پر گامزن رکھا جا سکے۔







