ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں تیل کے کنویں بند ہونے، ریفائنریوں کو نقصان پہنچنے اور جنگی حالات کے باعث عالمی تیل کی صنعت شدید دباؤ کا شکار ہے، جس کے اثرات آئندہ کئی برس تک برقرار رہ سکتے ہیں۔

 تیل کے کنویں بند ہونے سے کیا مسائل پیدا ہوتے ہیں؟

ماہرین کے مطابق تیل کا کنواں عام نل کی طرح نہیں ہوتا جسے جب چاہا بند یا کھول دیا جائے۔ زمین کے اندر موجود قدرتی دباؤ کے ذریعے تیل سطح پر آتا ہے، لیکن جب کنواں بند کر دیا جائے تو درجہ حرارت اور دباؤ میں تبدیلی کے باعث تیل میں موجود ایک بھاری مادہ، جسے آسفالٹین کہا جاتا ہے یعنی جمنا شروع ہو جاتا ہے۔

یہ مادہ پائپ لائنوں اور چٹانوں میں سخت تہہ کی صورت اختیار کر لیتا ہے، جس کے باعث دوبارہ پیداوار شروع کرنا نہ صرف مشکل بلکہ انتہائی مہنگا بھی ہو جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر کنواں آٹھ ہفتوں سے کم عرصے کے لیے بند رہے تو اسے بحال کیا جا سکتا ہے، تاہم اس کی مرمت پر بھاری اخراجات آتے ہیں۔ اگر بندش چھ ماہ تک جاری رہے تو صفائی اور بحالی میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں، جبکہ ایک سال سے زیادہ بند رہنے والے بعض کنویں ہمیشہ کے لیے ناکارہ ہو جاتے ہیں۔

 جنگ نے توانائی کے شعبے کو کتنا نقصان پہنچایا؟

ماہرین کے مطابق حالیہ جنگ کے دوران 80 سے زائد توانائی کی تنصیبات کو نقصان پہنچا، جن کی بحالی پر کم از کم 34 ارب ڈالر خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جب کہ تمام نظام کو مکمل طور پر بحال ہونے میں تقریباً دو سال لگ سکتے ہیں۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ کے مطابق موجودہ بحران شدت کے اعتبار سے 1970 کی دہائی کے دونوں عالمی تیل بحرانوں اور 2022 کے روس۔یوکرین گیس بحران سے بھی بڑا ثابت ہو سکتا ہے۔

 ایران کی تیل کی صنعت کو کیا نقصان پہنچا؟

رپورٹس کے مطابق امریکی ناکہ بندی کے باعث ایران کی اہم برآمدی بندرگاہ خرگ آئی لینڈ بند رہی، جو ایران کی تقریباً 90 فیصد تیل برآمدات کا مرکزی راستہ ہے۔

برآمدات رکنے کے باعث تقریباً 5 کروڑ بیرل تیل ذخیرہ کرنا پڑا، جب کہ متعدد جہاز سمندر میں لنگر انداز رہے اور جاسک ٹرمینل بھی مکمل طور پر بھر گیا۔

دوسری جانب اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران کے سب سے بڑے گیس فیلڈ ساؤتھ پارس کی پیداوار بھی متاثر ہوئی، جس سے ملک کی تقریباً 12 فیصد گیس پیداوار رک گئی، جب کہ دو بڑی ریفائنریاں بھی بند ہو گئیں۔

خلیجی ممالک بھی متاثر

ماہرین کے مطابق بحران صرف ایران تک محدود نہیں رہا بلکہ پورے خلیجی خطے کو متاثر کیا۔

سعودی عرب کے رأس تنورہ کروڈ پروسیسنگ پلانٹ، جس کی یومیہ گنجائش تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار بیرل تھی، کو بھی ڈرون حملے کے باعث بند کرنا پڑا، جبکہ متحدہ عرب امارات کی رویس ریفائنری میں بھی آگ لگنے کے واقعات پیش آئے۔

اس کے علاوہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی جنگ سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 95 فیصد تک کم ہو گئی، جبکہ متبادل پائپ لائنیں سمندری راستوں کا مکمل بوجھ اٹھانے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔

معاہدے کے باوجود قیمتیں جلد معمول پر آنے کا امکان نہیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ حالیہ معاہدوں کے بعد بندرگاہیں دوبارہ کھل رہی ہیں اور بعض پابندیاں بھی ختم کی جا رہی ہیں، تاہم تباہ شدہ تنصیبات کی مرمت، بند کنوؤں کی بحالی اور تیل کی پیداوار کو معمول پر لانے میں طویل وقت درکار ہوگا۔

ان کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے والی 60 سے 70 ڈالر فی بیرل کی سطح پر جلد واپس آنے کا امکان کم ہے، جس کے اثرات آنے والے مہینوں ہی نہیں بلکہ کئی سال تک عالمی معیشت اور عام صارفین پر مرتب ہو سکتے ہیں۔