تاہم رواں سال آم کی فصل کو پیداوار، معیار اور برآمدات کے حوالے سے غیر معمولی مشکلات کا سامنا ہے، جس کے باعث اس صنعت سے وابستہ کاشتکاروں اور برآمد کنندگان میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان دنیا میں آم پیدا کرنے والا چھٹا بڑا ملک ہے اور پاکستانی آم اپنے منفرد ذائقے اور خوشبو کی وجہ سے عالمی منڈی میں خاص مقام رکھتا ہے۔ تاہم ایک وقت تھا جب ملک میں سالانہ 18 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد آم پیدا ہوتا تھا، لیکن اب یہ پیداوار کم ہو کر تقریباً 14 لاکھ میٹرک ٹن رہ گئی ہے۔

صرف پیداوار ہی نہیں بلکہ آم کی برآمدات بھی نمایاں طور پر متاثر ہوئی ہیں۔ پاکستان ماضی میں ایک لاکھ 25 ہزار ٹن سے زائد آم برآمد کر کے تقریباً 110 ملین ڈالر کا زرمبادلہ حاصل کرتا تھا، مگر رواں سال برآمدات کا ہدف کم ہو کر صرف 80 ہزار ٹن رہ گیا ہے، جس سے 70 سے 90 ملین ڈالر کے درمیان آمدنی متوقع ہے۔ اس طرح ملک کو کروڑوں ڈالر کے زرمبادلہ سے محروم ہونے کا خدشہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آم کی پیداوار اور معیار میں کمی کی ایک بڑی وجہ مختلف بیماریاں ہیں، جنہوں نے باغات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ تھرپس اور پاؤڈری ملڈیو جیسی بیماریوں نے نہ صرف پیداوار کو متاثر کیا بلکہ آم کے ذائقے، خوشبو اور معیار پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔

 ان بیماریوں سے بچاؤ کے لیے کاشتکار مہنگے اور بعض اوقات غیر معیاری زرعی ادویات اور کیمیکل استعمال کرنے پر مجبور ہیں، جس سے پھل کی قدرتی مٹھاس اور خوشبو بھی متاثر ہو رہی ہے۔

زرعی ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی بھی اس بحران کی اہم وجہ بن چکی ہے۔ مارچ اور اپریل میں جب آم کے درختوں پر بور آتا ہے تو غیر معمولی ہیٹ ویوز کے باعث چھوٹا پھل پکنے سے پہلے ہی جھلس کر گر جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بے وقت بارشیں، ژالہ باری اور نہری پانی کی شدید قلت نے بھی باغات کو نقصان پہنچایا ہے، جس کے نتیجے میں پیداوار میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

دوسری جانب خطے میں جاری کشیدگی نے بھی پاکستانی آم کی برآمدات کو متاثر کیا ہے۔ ایران، امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے باعث خلیجِ فارس کے سمندری راستے متاثر ہوئے ہیں، جس سے شپنگ لاگت میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔

برآمد کنندگان کے مطابق جو کنٹینر پہلے تقریباً 1200 ڈالر میں بیرون ملک بھیجا جاتا تھا، اس کا کرایہ اب بڑھ کر تقریباً 7 ہزار ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ اس کے علاوہ فضائی اور زمینی راستوں میں رکاوٹوں کے باعث بیرونی منڈیوں تک آم کی بروقت ترسیل بھی مشکل ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں بڑی مقدار میں آم منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی خراب ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے، جدید زرعی تحقیق، بیماریوں پر قابو پانے اور برآمدی لاجسٹکس کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کی عالمی سطح پر آم کی برآمدی حیثیت مزید کمزور ہو سکتی ہے۔

رواں سال کی صورتحال نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کا یہ میٹھا تحفہ صرف قدرتی آفات ہی نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی، زرعی بیماریوں، بڑھتی ہوئی لاگت اور عالمی جغرافیائی کشیدگی کے مشترکہ اثرات کی زد میں ہے، جس کے باعث کسان، برآمد کنندگان اور قومی معیشت تینوں متاثر ہو رہے ہیں۔